تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 417
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الرعد خدا نے یہ وعدہ نہیں کیا کہ باوجود گنہگار ہونے کے اللہ تعالیٰ بغیر عذاب کے چھوڑ دے۔ایک طرف تو قرآن میں یہ لکھا ہے کہ طاعون سے کوئی بستی خالی نہیں رہے گی اور طاعون کی وجہ صرف یہی ہے جو اِنَّ اللهَ لَا يُغيّر مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِا نظم کے الہام سے ظاہر ہے یعنی جب لوگوں نے اپنے افعال اور اعمال سے نغضب الہی کے جوش کو بھڑکا یا اور بدعملیوں سے اپنی حالتوں کو ایسا بدل لیا کہ خوف خدا اور تقویٰ وطہارت کی ہر ایک راہ کو چھوڑ دیا اور بجائے اس کے طرح طرح کے فسق و فجور کو اختیار کر لیا اور خدا پر ایمان سے بالکل ہاتھ دھودیا۔دہریت اندھیری رات کی طرح دنیا پر محیط ہوگئی اور اللہ تعالیٰ کے نورانی چہرے کو ظلمت کے نیچے دباد یا تو خدا نے اس عذاب کو نازل کیا تا لوگ خدا کے چہرے کو دیکھ لیں اور اس کی طرف رجوع کریں۔( البدرجلد ۳ نمبر ۲۵ مورخہ یکم جولائی ۱۹۰۴ء صفحه ۳) جوشخص چاہتا ہے کہ آسمان میں اس کے لئے تبدیلی ہو یعنی وہ ان عذابوں اور دکھوں سے رہائی پائے جو شامت اعمال نے اس کے لئے طیار کئے ہیں۔اس کا پہلا فرض یہ ہے کہ وہ اپنے اندر تبدیلی کرے۔جب وہ خود تبدیلی کر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کے موافق جو اس نے إِنَّ اللهَ لَا يُغَيْرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا ما با نظم میں کیا ہے اس کے عذاب اور دکھ کو بدلا دیتا ہے اور دکھ کو سکھ سے تبدیل کر دیتا ہے جب انسان اپنے اندر تبدیلی کرتا ہے تو اس کے لئے ضرور نہیں ہے کہ وہ لوگوں کو بھی دکھاتا پھرے۔وہ رحیم کریم خدا جو دلوں کا مالک ہے اس کی تبدیلی کو دیکھ لیتا ہے کہ یہ پہلا انسان نہیں ہے اس لئے وہ اس پر فضل کرتا ہے۔الحکم جلد ۸ نمبر ۳۱ مورخه ۱۷ ستمبر ۱۹۰۴ صفحه ۲) اللہ تعالیٰ کبھی حالت قوم میں تبدیلی نہ کرے گا جب تک لوگ دلوں کی تبدیلی نہ کریں گے۔(الحکم جلد ۹ نمبر ۱۵ مورخه ۱/۳۰اپریل ۱۹۰۵ صفحه ۲) خدا تعالیٰ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خودا اپنی حالت کو درست نہ کر لیں۔الحکم جلد نمبر ۹ مورخہ ۷ ار مارچ ۱۹۰۷ ، صفحہ ۱۱) یا درکھیں کہ اللہ اس حالت کو نہیں بدلائے گا جب تک دلوں کی حالت میں یہ لوگ خود تبدیلی نہ کریں۔الحکم جلد ا ا نمبر ۳۶ مورخه ۱۰ اکتوبر ۱۹۰۷ صفحه ۸) خدا نہیں چھوڑے گا اور ہر گز نہیں چھوڑے گا جب تک لوگ اپنے اخلاق ، اعمال اور خیالات میں ایک تبدیلی پیدا نہ کرلیں گے۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳۳ مورخه ۱۴ رمئی ۱۹۰۸ء صفحه ۳) لَهُ دَعْوَةُ الْحَقِّ وَالَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ لَا يَسْتَجِيبُونَ لَهُمْ بِشَيْءٍ إِلَّا