تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 409
۴۰۸ سورة يوسف تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس عرصہ دراز میں بعض ملامت کرنے والوں نے یہ بھی کہا کہ تو یوسف کو بے فائدہ یاد کرتا ہے مگر انہوں نے یہ کہا کہ میں خدا سے وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے بیشک ان کو کچھ خبر نہ تھی مگر یہ کہا: إِنِّي لَأَجِدُ رِيحَ يُوسُفَ - پہلے تو اتنا ہی معلوم تھا کہ دعاؤں کا سلسلہ لمبا ہو گیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اگر دعاؤں میں محروم رکھنا ہوتا تو وہ جلد جواب دے دیتا مگر اس سلسلہ کا لمبا ہونا قبولیت کی دلیل ہے کیونکہ کریم سائل کو دیر تک بٹھا کر کبھی محروم نہیں کرتا بلکہ بخیل سے بخیل بھی ایسا نہیں کرتا وہ بھی سائل کو اگر زیادہ دیر تک دروازہ پر بٹھائے تو آخر اس کو کچھ نہ کچھ دے ہی دیتا ہے۔حضرت یعقوب علیہ السلام کے دعاؤں کے زمانہ کی درازی پر وَابْيَضَّتْ عَيْنَهُ قرآن میں خود دلالت کر رہی ہیں غرض دعاؤں کے سلسلہ کے دراز ہونے سے کبھی گھبرانا نہیں چاہیے۔اللہ تعالیٰ ہر نبی کی تکمیل بھی جدا جدا پیرایوں میں کرتا ہے۔حضرت یعقوب کی تکمیل اللہ تعالیٰ نے اسی غم میں رکھی تھی۔احکام جلد ۶ نمبر ۴۶ مورخه ۲۴ / دسمبر ۱۹۰۲ صفحه ۲) بہت سی باتیں پیشگوئیوں کے طور پر نبیوں کی معرفت لوگوں کو پہنچتی ہیں اور جب تک وہ اپنے وقت پر ظاہر نہ ہوں ان کی بابت کوئی یقینی رائے قائم نہیں کی جاسکتی لیکن جب ان کا ظہور ہوتا ہے اور حقیقت کھلتی ہے تو معلوم ہو جاتا ہے کہ اس پیشگوئی کا یہ مفہوم اور منشا تھا اور جو شخص اس کا مصداق ہو یا جس کے حق میں ہواس کو اس کا علم دیا جاتا ہے۔۔۔حضرت یعقوب علیہ السلام حضرت یوسف علیہ السلام کے فراق میں چالیس سال تک روتے رہے آخر جا کر آپ کو خبر ملی تو کہا: إِنِّي لَأَجِدُ رِيحَ يُوسُفَ ورنہ اس سے پہلے آپ کا یہ حال ہوا کہ قرآن شریف میں فرمایا گیا ہے : وَابيَضَّتْ عينه تک نوبت پہنچی۔اسی کے متعلق کیا اچھا کہا ہے۔کے پرسید زاں گم کردہ فرزند کہ اے روشن گہر پیر خرد مند ز مصرش بوئے پیراہن شمیدی چرا در چاه کنعانش نه دیدی الحکم جلدے نمبر ۵ مورخہ ۷ /فروری ۱۹۰۳ صفحه ۲) جب سماع کے ذریعہ سے کوئی خبر دی جاتی ہے تو اسے وحی کہتے ہیں اور جب رویت کے ذریعہ سے کچھ بتلا یا جاوے تو اسے کشف کہتے ہیں۔اسی طرح میں نے دیکھا ہے کہ بعض وقت ایک ایسا امر ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا تعلق صرف قوت شامہ سے ہوتا ہے مگر اس کا نام نہیں رکھ سکتے جیسے یوسف کی نسبت حضرت یقوب کو خوشبو آئی تھی : انِّي لَأَجِدُ رِيحَ يُوْسُفَ لَوْلَا أَن تُفْسِدُونِ - (البدر جلد ۲ نمبر ۱۵ مورخہ یکم مئی ۱۹۰۳ صفحه ۱۱۴) کشف اسے کہتے ہیں کہ انسان پر بیداری کے عالم میں ایک ایسی ربودگی طاری ہو کہ وہ سب کچھ جانتا