تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 390 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 390

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹۰ سورة هود اللہ تعالیٰ کسی کی محنت کو ضائع نہیں کرتا إِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ - رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۱۶۱، ۱۶۲) إلا مَنْ رَّحِمَ رَبُّكَ وَ لِذلِكَ خَلَقَهُمْ وَ تَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَامُلَيَّنَ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ١٢٠ یہ تو غیر ممکن ہے کہ تمام لوگ مان لیں کیونکہ بموجب آیت وَ لِذلِكَ خَلَقَهُمْ اور بموجب آیت کریمہ وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلى يَوْمِ الْقِيمَةِ (ال عمران :۵۶ ) سب کا ایمان لانا خلاف نص صریح ہے۔پس اس جگہ سعید لوگ مراد ہیں۔(تحفہ گولڑ و سیه ، روحانی خزائن جلد ۷ اصفحہ ۷۴ حاشیہ ) وَلِلَّهِ غَيْبُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ الأَمْرُ كُلُّه فَاعْبُدُهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ b إلَيْهِ يُرْجَعُ الأَمرُ كُلُّه خدا تعالیٰ کی طرف ہی ہر ایک امر رجوع کرتا ہے مگر اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ اس سے انسان کی مجبوری لازم آتی ہے نام نہی ہے۔یوں تو خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ بھی فرمایا ہے کہ میں مینہ برساتا ہوں اور برق و صاعقہ کو پیدا کرتا ہوں اور کھیتیاں اگا تا ہوں مگر اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ اسباب طبعیہ مینہ برسنے اور رعد و برق کے پیدا ہونے کے جو ہیں اس سے اللہ تعالی انکار کرتا ہے۔بالکل فضول ہے۔کیونکہ یہ مراتب بجائے خود بیان فرمائے گئے ہیں کہ یہ تمام چیزیں اسباب طبعیہ سے پیدا ہوتے ہیں۔پس اصل بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے ایسے بیانات سے کہ میرے حکم سے بارشیں ہوتی ہیں اور میرے حکم سے کھیتیاں اُگتی ہیں اور برق و صاعقہ پیدا ہوتا ہے اور پھل لگتے ہیں وغیرہ وغیرہ اور ہر ایک بات میرے ہی قبضہ اقتدار میں اور میرے ہی امر سے ہوتی ہے۔یہ ثابت کرنا مقصود نہیں کہ سلسلہ کا ئنات کا مجبور مطلق ہے بلکہ اپنی عظمت اور اپنا علت العلل ہونا اور اپنا مسبب الاسباب ہونا مقصود ہے کیونکہ تعلیم قرآنی کا اصل موضوع توحید خالص کو دُنیا میں پھیلانا اور ہر ایک قسم کے شرک کو جو پھیل رہا تھا مٹانا ہے۔اور چونکہ قرآن شریف کے نازل ہونے کے وقت عرب کے جزیرہ میں ایسے ایسے مشرکانہ عقائد پھیل رہے تھے کہ بعض بارشوں کو ستاروں کی طرف منسوب کرتے تھے اور بعض دہریوں کی طرح تمام چیزوں کا ہونا اسباب طبعیہ تک