تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 389
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۸۹ سورة هود نیکیاں بدیوں کو زائل کر دیتی ہیں۔پس ان حسنات کو اور لذات کو دل میں رکھ کر دعا کرے کہ وہ نماز جو صدیقوں اور محسنوں کی ہے وہ نصیب کرے۔یہ جو فرمایا ہے کہ اِنَّ الْحَسَنتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّبَاتِ یعنی نیکیاں یا نماز بدیوں کو دور کرتی ہے یا دوسرے مقام پر فرمایا ہے کہ نماز فواحش اور برائیوں سے بچاتی ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ بعض لوگ باوجود نماز پڑھنے کے پھر بدیاں کرتے ہیں اس کا جواب یہ ہے کہ وہ نماز پڑھتے ہیں مگر نہ روح اور راستی کے ساتھ۔وہ صرف رسم اور عادت کے طور پر ٹکریں مارتے ہیں ان کی روح مردہ ہے اللہ تعالیٰ نے ان کا نام حسنات نہیں رکھا اور یہاں جو حسنات کا لفظ رکھا اور الصلوۃ کا لفظ نہیں رکھا باوجود یکہ معنی وہی ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ تا نماز کی خوبی اور حسن و جمال کی طرف اشارہ کرے کہ وہ نماز بدیوں کو دور کرتی ہے جو اپنے اندر ایک سچائی کی روح رکھتی ہے اور فیض کی تاثیر اس میں موجود ہے۔وہ نماز یقیناً یقیناً برائیوں کو دور کر دیتی ہے۔ریویو آف ریلیجنز جلد ۳ نمبر ۱ صفحه ۵) روحانی نظام میں مرکز اصلی کی طرف بازگشت کرنا ہی راحت کا موجب ہو سکتا ہے اور اس دکھ درد سے بچاتا ہے جو اس مرکز کو چھوڑنے سے پیدا ہوا تھا اسی کا نام تو بہ ہے اور یہی ظلمت جو اس طرح پر پیدا ہوتی ہے ضلالت اور جہنم کہلاتی ہے اور مرکز اصلی کی طرف رجوع کرنا جو راحت پیدا کرتا ہے جنت سے تعبیر ہوتا ہے اور گناہ سے ہٹ کر پھر نیکی کی طرف آنا جس سے اللہ تعالیٰ خوش ہو جاوے اس بدی کا کفارہ ہو کر اسے دور کر دیتا ہے اور اس کے نتائج کو بھی سبک کر دیتا ہے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: إِنَّ الْحَسَنتِ يُذْهِبْنَ السياتِ یعنی نیکیاں بدیوں کو زائل کر دیتی ہیں۔چونکہ بدی میں ہلاکت کی زہر ہے اور نیکی میں زندگی کا تریاق۔اسی لئے بدی کے زہر کو دور کرنے کا ذریعہ نیکی ہی ہے۔نماز کل بدیوں کو دور کر دیتی ہے حسنات سے مراد نماز ہے۔الحکم جلد ۶ نمبر امورخه ۱۰ جنوری ۱۹۰۲ء صفحه ۵،۴) الحکم جلد ۶ نمبر ۸ ۳ مورخه ۲۴/اکتوبر ۱۹۰۲ صفحه ۱۲) نیکیاں بدیوں کو دور کرتی ہیں یہاں حسنات کے معنے نماز کے ہیں۔(الحکم جلد ۸ نمبر ۳۹٬۳۸ مورخه ۱۰ تا۱۷ نومبر ۱۹۰۴ صفحه ۶) وَاصْبِرُ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ۔117 اللہ تعالیٰ کسی کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔البدر جلد ۲ نمبر ۲۴ مورخه ۳/ جولائی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۸۶)