تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 388
۳۸۸ سورة هود تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مطابق اللہ جل شانہ قرآن شریف میں فرماتا ہے: اِنَّ الْحَسَنتِ يُذْهِبْنَ السَّيَّاتِ یعنی نیکیاں بدیوں کو دور کر دیتی ہیں۔ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ بدی میں ایک زہریلی خاصیت ہے کہ وہ ہلاکت تک پہنچاتی ہے۔اسی طرح ہمیں ماننا پڑتا ہے کہ نیکی میں ایک تریاقی خاصیت ہے کہ وہ موت سے بچاتی ہے۔مثلاً گھر کے تمام دروازوں کو بند کر دینا یہ ایک بدی ہے جس کی لازمی تاثیر یہ ہے کہ اندھیرا ہو جائے۔پھر اس کے یہ مقابل پر یہ ہے کہ گھر کا دروازہ جو آفتاب کی طرف ہے کھولا جائے اور یہ ایک نیکی ہے جس کی لازمی خاصیت یہ ہے کہ گھر کے اندر گم شده روشنی واپس آجائے یا ہم بہ تبدیل الفاظ یوں کہہ سکتے ہیں کہ عذاب ایک سلبی چیز ہے کیونکہ راحت کی نفی کا نام عذاب ہے اور نجات ایک ایجابی چیز ہے یعنی راحت اور خوشحالی کے دوبارہ حاصل ہو جانے کا نام نجات ہے۔پس جیسا کہ ظلمت عدم وجود روشنی کا نام ہے ایسا ہی عذاب عدم وجود خوشحالی کا نام ہے۔(کتاب البریه، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۸۱٬۸۰) نماز کے متعلق جس زائد ہدایت کا وعدہ ہے وہ یہی ہے کہ اس قدر طبعی جوش اور ذاتی محبت اور خشوع اور کامل حضور میسر آجائے کہ انسان کی آنکھ اپنے محبوب حقیقی کے دیکھنے کے لئے کھل جائے اور ایک خارق عادت کیفیت مشاہدہ جمال باری کی میسر آجائے جو لذات روحانیہ سے سراسر معمور ہو اور دنیوی رذایل اور انواع واقسام کے معاصی قولی اور فعلی اور بصری اور سماعی سے دل کو متنفر کر دے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : إِنَّ الْحَسَنتِ يُذْهِبْنَ السَّيَاتِ - (حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۳۹) میں دیکھتا ہوں کہ ایک شرابی اور نشہ باز انسان کو جب سرور نہیں آتا تو وہ پے در پے پیالے پیتا جاتا ہے یہاں تک کہ اس کو ایک قسم کا نشہ آ جاتا ہے۔دانشمند اور بزرگ انسان اس سے فائدہ اُٹھا سکتا ہے اور وہ یہ کہ نماز پر دوام کرے اور پڑھتا جاوے یہاں تک کہ اس کو سرور آجاوے اور جیسے شرابی کے ذہن میں ایک لذت ہوتی ہے جس کا حاصل کرنا اس کا مقصود بالذات ہوتا ہے۔اسی طرح سے ذہن میں اور ساری طاقتوں کا رجحان نماز میں اسے سرور کا حاصل کرنا ہو اور پھر ایک خلوص اور جوش کے ساتھ کم از کم اس نشہ باز کے اضطراب اور قلق و کرب کی مانند ہی ایک دعا پیدا ہو کہ وہ لذت حاصل ہو تو میں کہتا ہوں اور سچ کہتا ہوں کہ یقیناً یقنا وہ لذت حاصل ہو جاوے گی۔پھر نماز پڑھتے وقت ان مفاد کا حاصل کرنا بھی ملحوظ ہو جو اس سے ہوتے ہیں اور احسان پیش نظر رہے۔اِنَّ الْحَسَنتِ يُذْهِبْنَ السَّيَاتِ - الحکم جلد ۳ نمبر ۱۳ مورخه ۱۲ را پریل ۱۸۹۹ء صفحه ۵)