تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 372 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 372

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۷۲ سورة هود وَهُوَ الَّذِى خَلَقَ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَ كَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُم اَحْسَنُ عَمَلًا وَ لَبِنْ قُلْتَ إِنَّكُمْ مَّبْعُوثُونَ مِنْ بَعْدِ الْمَوْتِ لَيَقُولَنَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ هَذَا إِلَّا سِحْرٌ مُّبِينٌ۔كَانَ عَرْشُهُ عَلَی الْمَاءِ یہ بھی ایک تجلی تھی اور ماء کے معنے یہاں پانی بھی نہیں کر سکتے۔خدا معلوم کہ اس کے نزدیک ماء کے کیا معنے ہیں۔اس کی کنہ خدا کو معلوم ہے۔جنت کے نعماء پر بھی ایسا ہی ایمان ہے۔وہاں یہ تو نہ ہو گا کہ۔۔۔۔بہت سی گائے بھینسیں ہوں گی اور دُودھ دوھ کر حوض میں ڈالا جاوے گا خدا فرماتا ہے کہ وہ اشیاء ہیں جو نہ آنکھوں نے دیکھیں نہ کانوں نے سنی اور نہ زبان نے چکھیں۔نہ دل میں ان کے فہم کا مادہ ہے حالانکہ ان کو دودھ اور شہد وغیرہ ہی لکھا ہے جو کہ آنکھوں سے نظر آتا ہے اور ہم اسے پیتے ہیں۔اسی طرح کئی باتیں جو کہ ہم خود دیکھتے ہیں مگر نہ تو الفاظ ملتے ہیں کہ ان کو بیان کر سکیں نہ اس کے بیان کرنے پر قادر ہیں۔یہ ایسی باتیں ہیں کہ اگر ان کو مادی دنیا پر قیاس کریں تو صد با اعتراضات پیدا ہوتے ہیں۔مَنْ كَانَ فِي هَذِةٍ ا أَعْلَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْلى (بنی اسرائیل: ۷۳) سے ظاہر ہے کہ دیدار کا وعدہ یہاں بھی ہے مگر ہم اسے جسمانیات پر نہیں حمل کر سکتے۔البدر جلد ۲ نمبر ۵ مورخه ۲۰ فروری ۱۹۰۳ ء صفحه ۳۸) فَالَّم يَسْتَجِيبُوا لَكُمْ فَاعْلَمُوا أَنَّمَا أُنْزِلَ بِعِلْمِ اللَّهِ وَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَهَلْ أَنْتُمْ مُسْلِمُونَ ) ) منجملہ ان کے ایک وہ وجہ ہے جو ان نتائج متفاوتہ سے ماخوذ ہوتی ہے۔جن کا مختلف طور پر بحالت عمل صادر ہونا ضروری ہے۔تفصیل اس کی یہ ہے کہ ہر ایک عاقل کی نظر میں یہ بات نہایت بد یہی ہے کہ جب چند متکلمین انشا پرداز اپنی اپنی علمی طاقت کے زور سے ایک ایسا مضمون لکھنا چاہیں کہ جو فضول اور کذب اور حشو اور لغو اور ہنرل اور ہر ایک مہمل بیانی اور ژولیدہ زبانی اور دوسرے تمام امور شل حکمت و بلاغت اور آفات منافی کمالیت و جامعیت سے بکی منزہ اور پاک ہو۔اور سراسر حق اور حکمت اور فصاحت اور بلاغت اور حقائق اور معارف سے بھرا ہوا ہو تو ایسے مضمون کے لکھنے میں وہی شخص سب سے اول درجہ پر رہے گا کہ جو علمی طاقتوں ے عرش کے متعلق مفصل بحث تفسیر سورۃ اعراف میں گزر چکی ہے ملاحظہ ہو تفسیر سورۃ اعراف آیت نمبر ۵۵