تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 370 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 370

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٣٧٠ سورة هود وَ اَنِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ يُمَتِّعَكُمْ مَتَاعًا حَسَنًا إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى وَيُؤْتِ كُلَّ ذِى فَضْلٍ فَضْلَهُ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَإِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ یو طبعاً سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ مشکل کام کیوں کر حل ہو۔اس کا علاج خود ہی بتلایا وَ آنِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمُ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ یا د رکھو کہ دو چیزیں اس امت کو عطا فرمائی گئی ہیں ایک قوت حاصل کرنے کے واسطے۔دوسری حاصل کردہ قوت کو عملی طور پر دکھانے کے لئے۔قوت حاصل کرنے کے واسطے استغفار ہے جس کو دوسرے لفظوں میں استمداد اور استعانت بھی کہتے ہیں۔صوفیوں نے لکھا ہے کہ جیسے ورزش کرنے سے مثلاً مگدروں اور موگریوں کے اُٹھانے اور پھیرنے سے جسمانی قوت اور طاقت بڑھتی ہے اسی طرح پر روحانی مگدر استغفار ہے۔اس کے ساتھ روح کو ایک قوت ملتی ہے اور دل میں استقامت پیدا ہوتی ہے جسے قوت لینی مطلوب ہو وہ استغفار کرے۔غفر ڈھانکنے اور دبانے کو کہتے ہیں۔استغفار سے انسان ان جذبات اور خیالات کو ڈھانپنے اور دبانے کی کوشش کرتا ہے جو خدا تعالیٰ سے روکتے ہیں۔پس استغفار کے یہی معنے ہیں کہ زہریلے مواد جو حملہ کر کے انسان کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں ان پر غالب آوے اور خدا تعالیٰ کے احکام کی بجا آوری کی راہ کی روکوں سے بچ کر انہیں عملی رنگ میں دکھائے۔یہ بات بھی یا درکھنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان میں دو قسم کے مادے رکھے ہیں ایک سمی مادہ ہے جس کا موکل شیطان ہے اور دوسرا تریاقی مادہ ہے۔جب انسان تکبر کرتا ہے اور اپنے تئیں کچھ سمجھتا ہے اور تریاقی چشمہ سے مدد نہیں لیتا تو سمی قوت غالب آجاتی ہے لیکن جب اپنے تئیں ذلیل و حقیر سمجھتا ہے اور اپنے اندر اللہ تعالی کی مدد کی ضرورت محسوس کرتا ہے اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک چشمہ پیدا ہو جاتا ہے جس سے اس کی روح گداز ہو کر بہہ نکلتی ہے اور یہی استغفار کے معنے ہیں یعنی یہ کہ اس قوت کو پا کر زہریلے مواد پر غالب آجاوے۔غرض اس کے معنی یہ ہیں کہ عبادت پر یوں قائم رہو۔اول رسول کی اطاعت کرو۔دوسرے ہر وقت خدا سے مدد چاہو۔ہاں پہلے اپنے رب سے مدد چاہو۔جب قوت مل گئی تو تُوبُوا الیه یعنی خدا کی طرف رجوع کرو۔