تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 369
۳۶۹ سورة هود تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہو کر آیا ہوں اور اگر میری اطاعت کرو گے اور مجھے قبول کرو گے تو تمہارے لئے بڑی بڑی بشارتیں ہیں کیونکہ میں بشیر ہوں اور اگر رو کرتے ہو تو یا درکھو کہ میں نذیر ہو کر آیا ہوں۔پھر تم کو بڑی بڑی عقوبتوں اور دکھوں کا سامنا ہوگا۔اصل بات یہ ہے کہ بہشتی زندگی اسی دنیا سے شروع ہو جاتی ہے اور اسی طرح پر کورانہ زیست جو خدا تعالیٰ اور اس کے رسول سے بالکل الگ ہو کر بسر کی جاوے جہنمی زندگی کا نمونہ ہے اور وہ بہشت جو مرنے کے بعد ملے گا اسی بہشت کا اصل ہے اور اسی لئے تو بہشتی لوگ نعماء جنت کے حظ اٹھاتے وقت کہیں گے: ھذا الَّذِى رُزِقْنَا مِنْ قَبْل دنیا میں انسان کو جو بہشت حاصل ہوتا ہے وہ قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكْهَا الشَّمس : ١٠) پر عمل کرنے سے ملتا ہے جب انسان عبادت کا اصل مفہوم اور مغز حاصل کر لیتا ہے تو خدا تعالیٰ کے انعام و اکرام کا پاک سلسلہ جاری ہو جاتا ہے اور جو نعمتیں آئندہ بعد مردن ظاہری مرئی اور محسوس طور پر ملیں گی وہ اب روحانی طور پر پاتا ہے۔پس یا درکھو کہ جب تک بہشتی زندگی اسی جہان سے شروع نہ ہو اور اس عالم میں اس کا حظ نہ اٹھاؤ اس وقت تک سیر نہ ہو اور تسلی نہ پکڑو کیونکہ وہ جو اس دنیا میں کچھ نہیں پاتا اور آئندہ جنت کی امید کرتا ہے وہ طمع خام کرتا ہے اصل میں وہ مَنْ كَانَ فِي هَذِةٍ أَعْلَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَغْنى (بنی اسرائیل : ۷۳) کا مصداق ہے اس لئے جب تک ماسوائے اللہ کے کنکر اور سنگریزے زمین دل سے دور نہ کر لو اور ا سے آئینہ کی طرح مصفا اور سرمہ کی طرح باریک نہ بنا لو صبر نہ کرو۔ہاں یہ بیچ ہے کہ انسان کسی مزکی النفس کی امداد کے بغیر اس سلوک کی منزل کو طے نہیں کر سکتا اسی لئے اس کے انتظام و انصرام کے لئے اللہ تعالی نے کامل نمونہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھیجا اور پھر ہمیشہ کے لئے آپ کے سچے جانشینوں کا سلسلہ جاری فرمایا تا کہ ناعاقبت اندیش برہموؤں کا رد ہو جیسے یہ امر ایک ثابت شدہ صداقت ہے کہ جو کسان کا بچہ نہیں ہے ملائی ( گوڈی دینے ) کے وقت اصل درخت کو کاٹ دے گا اسی طرح پر یہ زمینداری جو روحانی زمینداری ہے کامل طور پر کوئی نہیں کر سکتا جب تک کسی کامل انسان کے ماتحت نہ ہو جو تخم ریزی ، آبپاشی ، ملائی کے تمام مرحلے طے کر چکا ہو۔اسی سے معلوم ہوتا ہے کہ مرشد کامل کی ضرورت انسان کو ہے۔مرشد کامل کے بغیر انسان کا عبادت کرنا اسی رنگ کا ہے جیسے ایک نادان و نا واقف بچہ ایک کھیت میں بیٹھا ہوا اصل پودوں کو کاٹ رہا ہے اور اپنے خیال میں وہ سمجھتا ہے کہ وہ گوڈی کر رہا ہے۔یہ گمان ہرگز نہ کرو کہ عبادت خود ہی آجاوے گی نہیں۔جب تک رسول نہ سکھلائے۔انقطاع الی اللہ اور تقتل نام کی راہیں حاصل نہیں ہوسکتیں۔الحکم جلد ۶ مورخه ۲۴ جولائی ۱۹۰۲ صفحه ۱۰،۹)