تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 368
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۶۸ سورة هود بیان کیا ہے بطور کتھا یا قصہ نہیں۔دوسری یہ خوبی کہ اس میں تمام ضروریات علم معاد کی تفصیل کی گئی ہے۔برائن احمد یه چهار حص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۲۳، ۲۲۴ حاشیہ نمبر ۱۱) احمدیہ اَلا تَعْبُدُوا إِلَّا اللَّهَ إِنَّنِي لَكُمْ مِنْهُ نَذِيرٌ وَبَشِيرُ ایک عجیب بات سوال مقدر کے جواب کے طور پر بیان کی گئی ہے۔یعنی اس قدر تفاصیل جو بیان کی جاتی ہیں ان کا خلاصہ اور مغز کیا ہے؟ اَلا تَعْبُدُوا إِلَّا الله خدا تعالیٰ کے سوا ہرگز ہرگز کسی کی پرستش نہ کرو۔اصل بات یہ ہے کہ انسان کی پیدائش کی علت غائی یہی عبادت ہے۔جیسے دوسری جگہ فرمایا ہے: وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلا لِيَعْبُدُونِ (الذاریات : ۵۷)۔عبادت اصل میں اس کو کہتے ہیں کہ انسان ہر قسم کی قساوت بچی کو دور کر کے دل کی زمین کو ایسا صاف بنادے جیسے زمیندار زمین کو صاف کرتا ہے۔عرب کہتے ہیں مور معبد جیسے سرمہ کو باریک کر کے آنکھوں میں ڈالنے کے قابل بنا لیتے ہیں اسی طرح جب دل کی زمین میں کوئی کنکر ، پتھر ، ناہمواری نہ رہے اور ایسی صاف ہو کہ گویا روح ہی روح ہو اس کا نام عبادت ہے۔چنانچہ اگر یہ درستی اور صفائی آئینہ کی کی جاوے تو اس میں شکل نظر آجاتی ہے اور اگر زمین کی کی جاوے تو اس میں انواع و اقسام کے پھل پیدا ہو جاتے ہیں۔پس انسان جو عبادت کے لئے پیدا کیا گیا ہے اگر دل صاف کرے اور اس میں کسی قسم کی بھی اور نا ہمواری کنکر پتھر نہ رہنے دے تو اس میں خدا نظر آئے گا۔میں پھر کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی محبت کے درخت اس میں پیدا ہو کر نشو و نما پائیں گے اور وہ اثمار شیر میں وطیب ان میں لگیں گے جو اُحلها داپھ (الرعد : ۳۲) کے مصداق ہوں گے۔یادرکھو کہ یہ وہی مقام ہے جہاں صوفیوں کے سلوک کا خاتمہ ہے۔جب سالک یہاں پہنچتا ہے تو خدا ہی خدا کا جلوہ دیکھتا ہے۔اس کا دل عرش الہی بنتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس پر نزول فرماتا ہے۔سلوک کی تمام منزلیں یہاں آکر ختم ہو جاتی ہیں کہ انسان کی حالت تعبد درست ہو جس میں روحانی باغ لگ جاتے ہیں اور آئینہ کی طرح خدا نظر آتا ہے اسی مقام پر پہنچ کر انسان دنیا میں جنت کا نمونہ پاتا ہے اور یہاں ہی هُذَا الَّذِي رُزِقْنَا مِن قَبْلُ وَاتُوا بِهِ مُتَشَابِها ( البقرة : ٢٢) کہنے کا حظ اور لطف اُٹھاتا ہے۔غرض حالت تعبد کی درستی کا نام عبادت ہے۔پھر فرمایا : انَّنِي لَكُمْ مِنْهُ نَذِيرٌ و بشیر۔چونکہ یہ تعد تام کا عظیم الشان کام انسان بدوں کسی اسوہ حسنہ اور نمونہ کاملہ کے اور کسی قوت قدسی کے کامل اثر کے بغیر نہیں کر سکتا تھا اس لئے رسول اللہ صلعم فرماتے ہیں کہ میں اسی خدا کی طرف سے نذیر اور بشیر