تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 366
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۶۶ سورة هود رکھتی ہے جیسے پانی کا قطرہ اگر ہاتھ سے چھوڑیں تو وہ کروی شکل کا ہوگا اور کروی شکل تو حید کو مستلزم ہے اور یہی وجہ ہے کہ پادریوں کو بھی ماننا پڑا کہ جہاں تثلیث کی تعلیم نہیں پہنچی وہاں کے رہنے والوں سے توحید کی پرسش ہوگی چنانچہ پادری فنڈر نے اپنی تصنیفات میں اس امر کا اعتراف کیا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر قرآن کریم دنیا میں نہ بھی ہوتا تب بھی ایک ہی خدا کی پرستش ہوتی۔اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کریم کا بیان صحیح ہے کیونکہ اس کا نقش انسانی فطرت اور دل میں موجود ہے اور دلائل قدرت سے اس کی شہادت ملتی ہے برخلاف اس کے انجیلی تثلیث کا نقش نہ دل میں ہے نہ قانون قدرت اس کا مؤید ہے۔یعنی معنے ہیں الا یہ کے۔یعنی قانونِ قدرت سے اس کی تعلیموں کو ایسا احکام اور استوار کیا گیا ہے کہ مشرک و عیسائی کو بھی مانا پڑا کہ انسان کے مادہ فطرت سے توحید کی باز پرس ہوگی۔دوسری وجہ استحکام کی خدا تعالیٰ کے نشانات ہیں کوئی نبی، کوئی ما مورد نیا میں ایسا نہیں آتا جس کے ساتھ تائیدات الہی شامل نہ ہوں اور یہ تائیدات اور نشانات ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بہت پر شوکت اور پر قوت تھے۔آپ کے حرکات سکنات میں کلام میں نشانات تھے۔گویا آپ کا وجود از سرتا پا نشانات الہی کا پتلا تھا۔تیسرا احکام نبی کا پاک چال چلن اور راست بازی ہے۔یہ منجملہ ان باتوں کے ہے جو عقلمندوں کے نزدیک امین ہونا بھی ایک دلیل ہے جیسے حضرت ابوبکر صدیق نے اس سے دلیل پکڑی۔چوتھا احکام جو ایک زبر دست و جہ استواری اور استحکام کی ہے نبی کی قوت قدسیہ ہے جس سے فائدہ پہنچتا ہے۔جیسے طبیب خواہ کتنا ہی دعویٰ کرے کہ میں ایسا ہوں اور ویسا ہوں اور اس کو سدیدی خواہ نوک زبان ہی کیوں نہ ہو۔لیکن اگر لوگوں کو اس سے فائدہ نہ پہنچے تو یہی کہیں گے کہ اس کے ہاتھ میں شفا نہیں ہے۔اسی طرح پر نبی کی قوت قدسی جس قدر ز بر دست ہو اسی قدر اس کی شان اعلیٰ اور بلند ہوتی ہے۔قرآن کریم کی تعلیم کے استحکام کے لئے یہ پشتیبان بھی سب سے بڑا پشتیبان ہے۔۔۔۔ان وجوہات احکام آیات کے علاوہ میرے نزدیک اور بھی بہت سے وجوہات ہیں منجملہ ان کے ایک اتر کے لفظ سے پتہ لگتا ہے یہ لفظ مجددوں اور مرسلوں کے سلسلہ جاریہ کی طرف اشارہ کرتا ہے جو قیامت تک جاری ہے۔اب اس سلسلہ میں آنے والے مجددوں کے خوارق۔ان کی کامیابیوں، ان کی پاک تاثیروں وغیرہ وجوہات احکام آیات کو گن بھی نہیں سکتے۔اور یہ سب خوارق اور کامیابیاں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کے متبعین مجد دوں