تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 365 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 365

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ قف ۳۶۵ سورة هود بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة هود بیان فرموده سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ و الر كتب أحكِمَتْ ايْتُه ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَدُنْ حَكِيمٍ خَبِيرٍ 0 الف سے مراد اللہ اورل سے مراد جبرائیل اور راء سے مرا در سل ہیں چونکہ اس میں یہی قصہ ہے کہ کون سی چیزیں انسانوں کو ضروری ہیں اس لئے فرمایا کتب احکمَت۔الآیۃ۔یہ کتاب ایسی ہے کہ اس کی آیات کی اور استوار ہیں۔قرآن کریم کی تعلیموں کو اللہ تعالیٰ نے کئی طرح پر مستحکم کیا تا کہ کسی قسم کا شک نہ رہے اور اسی لئے شروع میں ہی فرما یا لا ريب فيه (البقرة : ۳) یہ استحکام کئی طور پر کیا گیا ہے۔اولاً۔قانون قدرت سے استواری اور استحکام قرآنی تعلیموں کا قانون قدرت سے کیا گیا۔جو کچھ قرآن کریم میں بیان کیا گیا ہے قانونِ قدرت اس کو پوری مدد دیتا ہے۔گویا جو قرآن میں ہے وہی کتاب مکنون میں ہے۔اس کا راز انبیاء علیہم السلام کی پیروی کے بدوں سمجھ میں نہیں آسکتا۔اور یہی وہ سر ہے جو لا يَمَشةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعة :۸۰) میں رکھا گیا ہے۔غرض پہلے قرآنی تعلیم کو قانون قدرت سے مستحکم کیا ہے مثلاً قرآن کریم نے اللہ تعالیٰ کی صفت وحدہ لاشریک بتلائی۔جب ہم قانونِ قدرت میں نظر کرتے ہیں تو ماننا پڑتا ہے کہ ضرور ایک ہی خالق و مالک ہے کوئی اس کا شریک نہیں۔دل بھی اسے ہی مانتا ہے اور دلائل قدرت سے بھی اس کا پتہ لگتا ہے کیونکہ ہر ایک چیز جود نیا میں موجود ہے وہ اپنے اندر گرویت