تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 359 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 359

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۵۹ سورة يونس نصیب نہیں ہوتیں بلکہ ان کا ہزارم حصہ بھی نصیب نہیں ہوتا چنانچہ اس کا ثبوت ہماری ان ہزار ہا کچی خوابوں کے ثبوت سے ہوسکتا ہے جن کو ہم نے قبل از وقوع صدہا مسلمانوں اور ہندوؤں کو بتلا دیا ہے اور جن کے مقابلہ سے غیر قوموں کا عاجز ہونا ہم ابتدا سے دعویٰ کر رہے ہیں۔( براہین احمدیہ چہار صص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۸۲ حاشیه در حاشیه نمبر ۱) یہ مومنوں کا ایک خاصہ ہے کہ بہ نسبت دوسروں کے ان کی خواہیں سچی نکلتی ہیں۔آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۲۹۳) چونکہ خدا تعالیٰ کی طرف سفر کرنا ایک نہایت دقیق در دقیق راہ ہے اور اس کے ساتھ طرح طرح کے مصائب اور دکھ لگے ہوئے ہیں اور ممکن ہے کہ انسان اس نادیدہ راہ میں بھول جاوے یا نا امیدی طاری ہو اور آگے قدم بڑھانا چھوڑ دے۔اس لئے خدا تعالیٰ کی رحمت نے چاہا کہ اپنی طرف سے اس سفر میں ساتھ ساتھ اس کو تسلی دیتی رہے اور اس کی دلد ہی کرتی رہے اور اس کی کمر ہمت باندھتی رہے اور اس کے شوق کو زیادہ کرے۔سو اس کی سنت اس راہ کے مسافروں کے ساتھ اس طرح پر واقع ہے کہ وہ وقتا فوقتا اپنے کلام اور الہام سے ان کو تسلی دیتا اور ان پر ظاہر کرتا ہے کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔تب وہ قوت پا کر بڑے زور سے اس سفر کو طے کرتے ہیں۔چنانچہ اس بارے میں وہ فرماتا ہے: لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَ فِي اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۲۲) لَهُمُ البُشرى فى الحيوة الدُّنْيَا وَ في الْآخِرَةِ یعنی خدا کے دوستوں کو الہام اور خدا کے مکالمہ کے ذریعہ سے اس دنیا میں خوشخبری ملتی ہے اور آئندہ زندگی میں بھی ملے گی۔الأخرة - اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۳۷) یعنی دنیا کی زندگی میں مومنین کو یہ نعمت ملے گی کہ اکثر سچی خوا ہیں انہیں آیا کریں گی یا بچے الہام ان کو ہوا ضرورت الامام، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۴۷۱) کریں گے۔اگر بعض جاہل اور نادان جو نام کے مسلمان ہیں یہ عقیدہ رکھیں کہ اسلام میں بھی مکالمہ مخاطبہ الہیہ کا سلسلہ بند ہے تو یہ ان کی اپنی جہالت ہے کیونکہ قرآن شریف مکالمہ مخاطبہ الہیہ کے سلسلہ کو بند نہیں کرتا جیسا کہ وہ خود تو فرماتا ہے۔۔۔یعنی مومنوں کے لئے مبشر الہام باقی رہ گئے ہیں گو شریعت ختم ہو گئی ہے کیونکہ عمر دنیا ختم ہونے کو ہے پس خدا کا کلام بشارتوں کے رنگ میں قیامت تک باقی ہے۔چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۱۸۸ حاشیه )