تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 353 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 353

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام پہنچانے کا انہوں نے ارادہ کیا ان کو پہنچ جائے گی۔۳۵۳ سورة يونس ( مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحه ۳۳۷) وَمَا يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلَّا ظَنَّا إِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِى مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا إِنَّ اللهَ عَلِيمٌ بِمَا يَفْعَلُونَ جو شخص محض ظن کو پنجہ مارتا ہے وہ مقام بلند حق سے بہت نیچے گرا ہوا ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : إِنَّ الظَّنّ لَا يُغْنِى مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا یعنی محض ظن حق الیقین کے مقابلہ پر کچھ چیز نہیں ہے۔ریویو بر مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۲۰۸) وَيَقُولُونَ مَتَى هَذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُم صُدِقِينَ قُلْ لَا أَمْلِكُ لِنَفْسِي ضَرًّا وَ لَا نَفْعًا إِلَّا مَا شَاءَ اللهُ لِكُلِ أُمَّةٍ أَجَلٌ - إِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ فَلَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ اور کافر کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو بتلاؤ کہ یہ وعدہ کب پورا ہوگا۔کہہ مجھے تو اپنے نفس کے نفع و ضرر کا بھی اختیار نہیں مگر جو خدا چاہے وہی ہوتا ہے۔ہر یک گروہ کے لئے ایک وقت مقرر ہے جب وہ وقت مقررہ ان کا پہنچتا ہے تو پھر نہ اس سے ایک ساعت پیچھے ہو سکتے ہیں اور نہ ایک ساعت آگے ہو سکتے ہیں۔( براہین احمدیہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۵۲ حاشیہ نمبر ۱۱) کافر کہتے ہیں کہ وہ نشان کب ظاہر ہوں گے اور یہ وعدہ کب پورا ہو گا سوان کو کہہ دے کہ مجھے ان باتوں میں دخل نہیں۔نہ میں اپنے نفس کے لئے ضرر کا مالک ہوں نہ نفع کا مگر جو خدا چاہے۔ہر ایک گروہ کے لئے ایک وقت مقرر ہے جو ٹل نہیں سکتا۔آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۳۳۳) خدا چاہتا ہے کہ نیکوں کو بچائے اور بدوں کو ہلاک کرے۔اگر وقت اور تاریخ بتلائی جائے تو ہر ایک شریر سے شریر اپنے واسطے بچاؤ کا سامان کر سکتا ہے اگر وقت کے نہ بتلانے سے پیشگوئی قابل اعتراض ہو جاتی ہے تو پھر تو قرآن شریف کی پیشگوئیوں کا بھی یہی حال ہے۔وہاں بھی اس قسم کے لوگوں نے اعتراض کیا تھا کہ متى هذا الوعد یہ وعدہ کب پورا ہوگا۔ہمیں وقت اور تاریخ بتلاؤ۔مگر بات یہ ہے کہ وعید کی پیشگوئیوں میں تعین نہیں ہوتا ورنہ کا فر بھی بھاگ کر بچ جائے۔( بدر جلد نمبر ۱۰ مورخه ۸/جون ۱۹۰۵ء صفحه ۲)