تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 350 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 350

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۵۰ سورة يونس رہے ہو کہ میرا کام افترا اور دروغ نہیں ہے اور خدا نے ناپاکی کی زندگی سے مجھے محفوظ رکھا ہے تو پھر جو شخص اس قدر مدت دراز تک یعنی چالیس برس تک ہر ایک افترا اور شرارت اور مکر اور خباثت سے محفوظ رہا اور کبھی اس نے خلقت پر جھوٹ نہ بولا تو پھر کیوں کر ممکن ہے کہ برخلاف اپنی عادت قدیم کے اب وہ خدا تعالیٰ پر تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۲۸۱، ۲۸۳) افتر ا کرنے لگا۔دود فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرى عَلَى اللهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِأَيْتِهِ ۖ إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ 79 المجرمون۔اس شخص سے زیادہ تر اور کون ظالم ہو گا جو خدا پر افترا باندھے یا خدا کے کلام کو کہے کہ یہ انسان کا افترا ہے بلاشبہ مجرم نجات نہیں پائیں گے۔(براہین احمدیہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۵۷۵) یقیناً یا د رکھو کہ انسان کمزوریوں کا مجموعہ ہے۔۔۔۔اس کے لئے امن اور عافیت کی یہی سبیل ہے کہ خدائے تعالیٰ کے ساتھ اس کا معاملہ صاف ہو اور وہ اس کا سچا اور مخلص بندہ بنے اور اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ صدق کو اختیار کرے۔جسمانی نظام کی کل بھی صدق ہی ہے جو شخص صدق کو چھوڑتے ہیں اور خیانت کر کے جرائم کو پناہ میں لانے والی سپر کذب کو خیال کرتے ہیں وہ سخت غلطی پر ہیں آنی اور عارضی طور پر شاید کوئی فائدہ انسان سمجھ لے لیکن فی الحقیقت کذب اختیار کرنے سے انسان کا دل تاریک ہوجاتا ہے اور اندر ہی اندرا سے ایک دیمک لگ جاتی ہے۔ایک جھوٹ کے لئے پھر اسے بہت سے جھوٹ تراشنے پڑتے ہیں کیونکہ اس جھوٹ کو سچائی کا رنگ دینا ہوتا ہے پس اسی طرح اندر ہی اندر اس کے اخلاقی اور روحانی قومی زائل ہو جاتے ہیں اور پھر اسے یہاں تک جرات اور دلیری ہو جاتی ہے کہ خدا تعالیٰ پر بھی افترا کر لیتا اور خدا کے مرسلوں اور ماموروں کی تکذیب بھی کر دیتا ہے اور خدا تعالیٰ کے نزدیک وہ اظلم ٹھیرتا ہے جیسا کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے : مَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّب پایته یعنی اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہو سکتا ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ اور افترا باندھے یا اس کی آیات کی تکذیب کرے۔یقیناً یا درکھو کہ یہ جھوٹ بہت ہی بری بلا ہے انسان کو ہلاک کر دیتا ہے اس سے بڑھ کر جھوٹ کا خطرناک نتیجہ کیا ہو گا کہ انسان خدا تعالیٰ کے مرسلوں اور اس کی آیات کی تکذیب کر کے سزا کا مستحق ہو جاتا ہے۔پس صدق اختیار کرد۔۔۔۔جس قدر انسان صدق کو اختیار کرتا ہے اور صدق سے محبت کرتا ہے اسی قدر اس کے دل میں خدا کے کلام اور