تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 344 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 344

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہے اور وہ یہ ہیں : ۳۴۴ سورة يونس یہودیوں کے بادشاہوں کی نسبت اسلام کے بادشاہوں کی نسبت قَالَ عَسى رَبُّكُمْ اَنْ يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَ ثُمَّ جَعَلْنَكُمْ خَليفَ فِي الْأَرْضِ مِنْ يَسْتَخْلِفَكُمْ فِي الْأَرْضِ فَيَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ۔بَعْدِهِمْ لِنَنْظُر كَيْفَ تَعْمَلُونَ (یونس : ۱۵) (الاعراف : ١٣٠) الجز و نمبر ۹ سورۃ الاعراف صفحہ ۱۶۵ الجز و نمبر ۱۱ سورۃ یونس صفحه ۳۳۵ یہ دو فقرے یعنی : فَيَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ جو یہودیوں کے بادشاہوں کے حق میں ہے اور اُس کے مقابل پر دوسرا افقره یعنی : لننظر كَيْفَ تَعْمَلُونَ جو مسلمانوں کے بادشاہوں کے حق میں ہے صاف بتلا رہے ہیں کہ ان دونوں قوموں کے بادشاہوں کے واقعات بھی باہم متشابہ ہوں گے۔سوایسا ہی ظہور میں آیا۔اور جس طرح یہودی بادشاہوں سے قابل شرم خانہ جنگیاں ظہور میں آئیں اور اکثر کے چال چلن بھی خراب ہو گئے یہاں تک کہ بعض اُن میں سے بدکاری، شراب نوشی ، خونریزی اور سخت بے رحمی میں ضرب المثل ہو گئے۔یہی طریق اکثر مسلمانوں کے بادشاہوں نے اختیار کئے۔ہاں بعض یہودیوں کے نیک اور عادل بادشاہوں کی طرح نیک اور عادل بادشاہ بھی بنے جیسا کہ عمر بن عبد العزیز۔(تحفہ گولڑویہ ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۳۰۷،۳۰۶) ( بروز کے متعلق سائل کے جواب میں فرمایا ) جیسے شیشہ میں انسان کی شکل نظر آتی ہے حالانکہ وہ شکل بذات خود الگ قائم ہوتی ہے اس کا نام بروز ہے۔۔۔۔یہ آیتیں بھی اس کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ایک ان میں سے اہل اسلام کی نسبت ہے اور ایک یہود کی نسبت۔پس مقابلہ سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں ہر طرح کا انعام کروں گا اور پھر دیکھو گا کہ کس طرح شکر کرتے ہو۔اب دیکھنے والی بات یہ ہے کہ اہل یہود کو کون سی بڑی مصیبت تھی۔تو وہ دو بڑی مصیبتیں ہیں ایک یہ کہ عیسی علیہ السلام کا انکار کر کیا گیا اور ایک یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کیا گیا۔پس مماثلت کے لحاظ سے مسلمانوں کے لئے بھی وہی دو انکار لکھے تھے مگر وہاں شمار میں الگ الگ دو وجود تھے اور یہاں نام الگ الگ ہیں مگر وہ وجود جس میں ان دونوں کا بروز ہوا ایک ہی ہے۔ایک بروز عیسوی اور ایک محمدی۔اور صرف نام کے لحاظ سے اہلِ اسلام یہود کے بروز اسی طرح سے قرار پائے کہ انہوں نے صحیح اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کر دیا اور وہ مماثلت پوری ہوگئی اور آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ اس اُمت میں بروزی طور پر وہی کرتوت