تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 341 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 341

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴۱ سورة يونس مضامین مقصودہ سے ابھی کچھ حصہ نہیں مگر ان کے حصول کے لئے ایک ذریعہ قریبہ ہیں۔پھر اس کے بعد تیسرا مرتبہ فقرات کا ہے جو ابھی معانی مقصودہ کے پورے جامع تو نہیں مگر ان میں سے کچھ حصہ رکھتے ہیں اور اس مضمون کے لئے جو نشی کے ذہن میں ہے بطور بعض اعضا کے ہیں۔پھر چوتھا مر تبہ کلام جامع تام کا ہے جو نشی کے دل میں سے نکل کر بہ تمام و کمال کا غذ پر اندراج پا گیا ہے اور تمام معانی اور مضامین مقصودہ کو اپنے اندر جمع رکھتا ہے پھر پانچواں مرتبہ یہ ہے کہ ان سادہ فقرات اور عبارتوں پر بلاغت اور فصاحت کا رنگ چڑھایا جائے اور خوش بیانی کے نمک سے ملیح کیا جائے پھر چھٹا مرتبہ جو بلا توقف اس مرتبہ کے تابع ہے یہ ہے کہ کلام میں اثر اندازی کی ایک جان پیدا ہو جائے جو دلوں کو اپنی طرف کھینچ لیوے اور طبیعتوں میں گھر کر لیوے۔اب غور کر کے دیکھ لو کہ یہ مراتب ستہ بکلی ان مراتب ستہ کی مانند اور ان کی مثیل ہیں جن کا قرآن کریم میں نطفہ، علقہ ،مضغہ اور کچھ مضغہ اور کچھ عظام یعنی انسان کی شکل کا خاکہ اور انسان کی پوری شکل اور جاندار انسان نام ( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۷۲ تا ۲۱۱ حاشیه در حاشیه ) رکھا ہے۔تمہارا خدا وہ خدا ہے جس نے چھ دن میں آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور پھر عرش پر قرار پکڑ ا یعنی اوّل اس نے اس دُنیا کے تمام اجرام سماوی اور ارضی کو پیدا کیا اور چھ دن میں سب کو بنایا ( چھ دن سے مراد ایک بڑا زمانہ ہے ) اور پھر عرش پر قرار پکڑا یعنی تنزہ کے مقام کو اختیار کیا۔یادر ہے کہ استوا کے لفظ کا جب علی صلہ آتا ہے تو اُس کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ ایک چیز کا اس مکان پر قرار پکڑنا جو اس کے مناسب حال ہو جیسا کہ قرآن شریف میں یہ بھی آیت ہے : وَاسْتَوَتُ عَلَى الْجُودِيّ (هود: ۴۵) یعنی نوح کی کشتی نے طوفان کے بعد ایسی جگہ پر قرار پکڑا جو اس کے مناسب حال تھا یعنی اُس جگہ زمین پر اترنے کے لئے بہت آسانی تھی سواسی لحاظ سے خدا تعالیٰ کے لئے استوا کا لفظ اختیار کیا یعنی خدا نے ایسی وراء الوراء جگہ پر قرار پکڑا جو اس کی تنزہ اور تقدس کے مناسب حال تھی۔چونکہ تنزہ اور تقدس کا مقام ماسوی اللہ کے فنا کو چاہتا ہے سو یہ اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ جیسے خدا بعض اوقات اپنی خالقیت کے اسم کے تقاضا سے مخلوقات کو پیدا کرتا ہے پھر دوسری مرتبہ اپنی تنڑہ اور وحدت ذاتی کے تقاضا سے اُن سب کا نقش ہستی مٹا دیتا ہے۔غرض عرش پر قرار پکڑ نا مقام تنزہ کی طرف اشارہ ہے تا ایسا نہ ہو کہ خدا اور مخلوق کو باہم مخلوط سمجھا جائے۔پس کہاں سے معلوم ہوا کہ خدا عرش پر یعنی اُس وراء الوراء مقام پر مقید کی طرح ہے اور محدود ہے۔قرآن شریف میں تو جا بجا بیان فرمایا گیا ہے کہ خدا ہر جگہ حاضر و ناظر ہے۔چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۱۱۹)