تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 319 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 319

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۱۹ سورة التوبة تحمیل عملی کی ضرورت ہے پس تحمیل عملی بدون تحمیل علمی کے محال ہے اور جب تک یہاں آکر نہیں رہتے تکمیل علمی مشکل ہے۔بار با خطوط آتے ہیں کہ فلاں شخص نے اعتراض کیا اور ہم جواب نہ دے سکے اس کی وجہ کیا ہے؟ یہی کہ وہ لوگ یہاں نہیں آتے اور ان باتوں کو نہیں سنتے جو خدا تعالیٰ اپنے سلسلہ کی تائید میں علمی طور پر ظاہر کر رہا ہے پس اگر تم واقعی اس سلسلہ کو شناخت کرتے ہو اور خدا پر ایمان لاتے ہو اور دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا سچا وعدہ کرتے ہو تو میں پوچھتا ہوں کہ اس پر عمل کیا ہوتا ہے کیا كُونُوا مَعَ الصُّدِقِيْنَ کا حکم منسوخ ہو چکا ہے۔اگر تم واقعی ایمان لاتے ہو اور سچی خوش قسمتی یہی ہے تو اللہ تعالیٰ کو مقدم کرلو۔اگر ان باتوں کو ردی اگر اور فضول سمجھو گے تو یا درکھو خدا تعالیٰ سے ہنسی کرنے والے ٹھہرو گے۔اور الحکم جلد ۵ نمبر ۳۱ مورخه ۲۴ /اگست ۱۹۰۱ صفحه ۳) صدق ایسی شے ہے جو انسان کو مشکل سے مشکل اوقات میں بھی نجات دیتا ہے۔سعدی نے سچ کہا ہے کہ کس ندیدم که گم شد از رو راست۔پس جس قدر انسان صدق کو اختیار کرتا ہے اور صدق سے محبت کرتا ہے اسی قدر اس کے دل میں خدا تعالیٰ کے کلام اور نبیوں کی محبت اور معرفت پیدا ہوتی ہے کیونکہ وہ تمام راست بازوں کے نمونے اور چشمہ ہوتے ہیں۔كُونُوا مَعَ الصُّدِقِین کا ارشاداسی اصول پر ہے۔الحکم جلد ۹ نمبر ۱۴ مورخه ۱/۲۴ پریل ۱۹۰۵ء صفحه ۲) اللہ تعالیٰ نے کہیں بھی مردوں کے پاس جانے کی ہدایت نہیں فرمائی بلکہ كُونُوا مَعَ الصُّدِقِينَ کا حکم دے کر زندوں کی صحبت میں رہنے کا حکم دیا۔یہی وجہ ہے کہ ہم اپنے دوستوں کو بار بار یہاں آنے اور رہنے کی تاکید کرتے ہیں اور ہم جو کسی دوست کو یہاں رہنے کے واسطے کہتے ہیں تو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ محض اس کی حالت پر رحم کر کے ہمدردی اور خیر خواہی سے کہتے ہیں۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ ایمان درست نہیں ہوتا جب تک انسان صاحب ایمان کی صحبت میں نہ رہے اور یہ اس لیے کہ چونکہ طبیعتیں مختلف ہوتی ہیں۔ایک ہی وقت میں ہر قسم کی طبیعت کے موافق حال تقریر ناصح کے منہ سے نہیں نکلا کرتی۔کوئی وقت ایسا آجاتا ہے کہ اس کی سمجھ اور فہم کے مطابق اس کے مذاق پر گفتگو ہو جاتی ہے جس سے اس کو فائدہ پہنچ جاتا ہے اور اگر آدمی بار بار نہ آئے اور زیادہ دنوں تک نہ رہے تو ممکن ہے کہ ایک وقت ایسی تقریر جو اس کے مذاق کے موافق نہیں ہے اور اس سے اس کو بددلی پیدا ہو اور وہ حسن ظن کی راہ سے دور جا پڑے اور ہلاک ہو جاوے۔ا القام جلد ۶ نمبر ۲۶ مورخه ۲۴ جولائی ۱۹۰۲ صفحه ۵)