تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 316 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 316

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۱۶ صادقوں کی صحبت اختیار کرے اور ان کے نقش قدم پر چلے۔سورة التوبة الحکم جلد ۶ نمبر ۲۸ مورخه ۱۰ راگست ۱۹۰۲ء صفحه ۷ ) خان صاحب نواب خاں صاحب جاگیر دار مالیر کوٹلہ نے ایک شخص کا ذکر کیا کہ وہ ارادت کا اظہار کرتا ہے مگر چاہتا ہے کہ اس کی توجہ نماز کی طرف ہو جاوے۔فرمایا کہ ) یہ لوگ خدا تعالیٰ سے ایسی شرطیں کیوں کرتے ہیں پہلے خود کوشش کرنی چاہیے قرآن شریف میں ایاک نَعْبُدُ مقدم ہے۔خدا تعالیٰ پر کسی کا حق واجب نہیں اگر وہ خود کوشش کرنا چاہتے ہیں تو مہینے تک یہاں آکر رہیں خدا نے فرمایا ہے : كُونُوا مَعَ الصّدِقِینَ یہاں وہ نماز پڑھنے والوں کو دیکھیں گے باتیں سنیں گے۔الحکم جلد ۶ نمبر ۲۹ مورخه ۷ ار ا گست ۱۹۰۲ صفحه ۹) انسان کو انوار اور برکات سے حصہ نہیں مل سکتا۔جب تک وہ اسی طرح عمل نہ کرے جس طرح خدا فرماتا ہے کہ كُونُوا مَعَ الصَّدِقِینَ۔بات یہی ہے کہ ضمیر سے خمیر لگتا ہے اور یہی قاعدہ ابتداء سے چلا آتا ہے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو آپ کے ساتھ برکات اور انوار تھے جن میں سے صحابہ نے بھی حصہ لیا پھر اسی طرح خمیر کی لاگ کی طرح آہستہ آہستہ ایک لاکھ تک ان کی نوبت آئی۔البدر جلد نمبر ۴ مورخه ۲۱ نومبر ۱۹۰۲ء صفحه ۳۱) ملعون لوگ ( یعنی جو خدا سے دور ہیں) جو زندگی بسر کرتے ہیں وہ کیا زندگی ہے۔بادشاہ اور سلاطین کی کیا زندگیاں ہیں۔مثل بہائم کے ہیں جب انسان مومن ہوتا ہے تو خود ان سے نفرت کرتا ہے۔۔۔۔ایمان لانے اور خدا کی عظمت کے دل میں ہونے کی اول نشانی یہ ہے کہ انسان ان تمام کو مثل کیڑوں کے خیال کرے ان کو دیکھ کر دل میں نہ تر سے کہ یہ فاخرہ لباس پہن کر گھوڑوں پر سوار ہیں۔در حقیقت ان لوگوں کی قسمت بد اور کتوں کی سی زندگی ہے کہ مردار دنیا پر دانت مار رہے ہیں۔انسان کو اگر دیکھنے کی آرزو ہو تو ان کو دیکھیں جو منقطعین ہیں اور خدا کی طرف آگئے ہیں اور خدا ان کو زندہ کرتا ہے۔ان کی زیارت سے مصائب دور ہوتے ہیں جو شخص رحمت والے کے پاس آوے گا تو وہ رحمت کے قریب تر ہوگا۔اور جو ایک لعنتی کے پاس جاوے گا وہ لعنت کے قریب تر ہو گا دنیا میں یہی بات غور کے قابل ہے خدا تعالیٰ فرماتا ہے: كُونُوا مَعَ الصُّدِقِيْنَ یعنی اے بندو تمہارا بچاؤ اسی میں ہے کہ صادقوں کے ساتھ ہو جاؤ۔البدر جلد اول نمبر ۱۱ مورخه ۹/جنوری ۱۹۰۳ ء صفحه ۸۶) یہاں کا رہنا تو ایک قسم کا آستانہء ایزدی پر رہنا ہے اس حوض کوثر سے وہ آب حیات ملتا ہے کہ جس کے