تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 1 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 1

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ا سورة المائدة بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ اَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة المآئدة بیان فرموده سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحِلُّوا شَعَابِرَ اللهِ وَلَا الشَّهْرَ الْحَرَامَ وَلَا الْهَدْيَ وَلَا الْقَلَابِدَ وَلاَ آمِينَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنْ رَّبِّهِمْ وَرِضْوَانًا وَإِذَا حلَلْتُمْ فَاصْطَادُوا وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ أَنْ صَدُّ وَكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اَنْ تَعْتَدُوا وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَ اتَّقُوا اللهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ ص ص مجملہ انسان کے طبعی امور کے جو اس کی طبیعت کے لازم حال ہیں۔ہمدردی خلق کا ایک جوش ہے۔قومی حمایت کا جوش بالطبع ہر ایک مذہب کے لوگوں میں پایا جاتا ہے اور اکثر لوگ طبعی جوش سے اپنی قوم کی ہمدردی کے لئے دوسروں پر ظلم کر دیتے ہیں۔گویا انہیں انسان نہیں سمجھتے۔سواس حالت کو خلق نہیں کہہ سکتے۔یہ فقط ایک طبعی جوش ہے اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ حالت طبعی کو وں وغیرہ پرندوں میں بھی پائی جاتی ہے کہ ایک کوے کے مرنے پر ہزار ہا کوے جمع ہو جاتے ہیں۔لیکن یہ عادت انسانی اخلاق میں اُس وقت داخل ہوگی جب کہ یہ ہمدردی انصاف اور عدل کی رعایت سے محل اور موقع پر ہو۔اُس وقت یہ ایک عظیم الشان خلق ہوگا جس کا نام عربی میں مواسات اور فارسی میں ہمدردی ہے۔اسی کی طرف اللہ جل شانہ قرآن شریف میں