تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 312
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۱۲ سورة التوبة کیا ہوا ؟ کیا وہ الفاظ جو میرے حق میں کہے اور وہ دعا جو میرے برخلاف کی اُلٹی اس پر ہی نہیں پڑی ؟ اب بتاؤ کہ کیا مقبولانِ الہی کا یہی نشان ہے کہ جو دعا وہ نہایت تضرع و ابتہال سے کریں اس کا الٹا اثر ہو اور اثر بھی یہ کہ خود ہی ہلاک ہو کر اپنے کا ذب ہونے پر مہر لگا جاویں۔خصوصاً ایسے شخص کے مقابل میں جسے وہ مفتری اور کیا کیا سمجھتا ہے دراصل وہ مجمع البحار والے کی مثال دے کر خود اس کا قائمقام بنا چاہتا تھا اور اگر مجھے کوئی نقصان پہنچ جاتا تو بڑے لمبے لمبے اشتہار شائع ہوتے لیکن خدا نے دشمن کو بالکل موقع نہ دیا کہ وہ کسی قسم کی خوشی منائے۔اس بات کو خوب سمجھ لینا چاہیے کہ اس نے میرے خلاف بددعا کی اور خدا سے میری جڑ کے کٹ جانے کی درخواست کی۔لیکن اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کی جڑ کٹ گئی اور مجھے روز افزوں ترقی حاصل ہوئی۔کیا یہ متعصب مخالف کے لیے عبرت کا مقام نہیں افسوس کہ یہ لوگ ذرا بھی غور و فکر سے کام نہیں لیتے۔قرآن مجید کی وہ آیت یہاں کیسی صادق آ رہی ہے کہ یتربصُ بِكُمُ الدَّوَابِرَ عَلَيْهِمْ دَابِرَةُ السَّوء يَتَرَبَّصُ ( بدر جلد ۶ نمبر ۱۷ مورخه ۱/۲۵ پریل ۱۹۰۷ء صفحه ۸) خوب یا درکھنا چاہیے کہ میری پیشگوئیوں میں کوئی بھی امرایسا نہیں ہے جس کی نظیر پہلے انبیاءعلیہم السلام کی پیشگوئیوں میں نہیں ہے۔یہ جاہل اور بے تمیز لوگ چونکہ دین کے بار یک علوم اور معارف سے بے بہرہ ہیں اس لیے قبل اس کے جو عادۃ اللہ سے واقف ہوں بخل کے جوش سے اعتراض کرنے کے لئے دوڑتے ہیں اور ہمیشہ بموجب آیت کریمہ يَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوابِر میری کسی گردش کے منتظر ہیں اور عَلَيْهِمْ دَابِرَةُ السوء کے مضمون سے بے خبر۔۔۔۔یا درکھنا چاہیے کہ زندگی کے درمیانی حصوں میں انبیاء علیہم السلام بھی بلاؤں سے محفوظ نہیں رہے مگر انجام بخیر ہوا۔اسی طرح اگر ہمیں بھی اس درمیانی مراحل میں کوئی غم پہنچے یا کوئی مصیبت پیش آوے تو اس کو خدا تعالیٰ کا اخیری حکم سمجھنا غلطی ہے۔خدا تعالی کا حتمی وعدہ ہے کہ وہ ہمارے سلسلہ میں برکت ڈالے گا اور اپنے اس بندہ کو بہت برکت دے گا یہاں تک کہ بادشاہ اس بندہ کے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے وہ ہر ایک ابتلا اور پیش آمدہ ابتلا کا بھی انجام بخیر کرے گا اور دشمنوں کے ہر ایک بہتان سے انجام کار بریت ظاہر کر دے گا۔(حقیقۃ المہدی ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۴۴۲، ۴۴۳) یعنی اے نبی ! تیرے پر یہ بد نہاد دشمن طرح طرح کی گردشیں چاہتے ہیں۔انہیں پر گردشیں پڑیں گی۔پس اس آیت کریمہ کی رو سے یہ سنت اللہ ہے کہ جو شخص صادق پر کوئی بددعا کرتا ہے وہی بددعا اس پر پڑتی ہے یہ سنت اللہ نصوص قرآنی اور حدیثیہ سے ظاہر ہے۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳۴۵)