تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 309 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 309

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٣٠٩ سورة التوبة دیا جائے۔ہاں جو خیرات کے مال کا تعہد کریں یا اس کے لیے انتظام و اہتمام کریں ان کو خیرات کے مال سے کچھ مال مل سکتا ہے اور نیز کسی کو بدی سے بچانے کے لیے بھی اس مال میں سے دے سکتے ہیں۔ایسا ہی وہ مال غلاموں کے آزاد کرنے کے لیے اور محتاج اور قرضداروں اور آفت زدہ لوگوں کی مدد کے لیے بھی اور دوسری راہوں میں جو محض خدا کے لیے ہوں خرچ ہوگا۔(اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۵۸،۳۵۷) اَلَم يَعلَمُوا أَنَّهُ مَنْ يُحَادِدِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَاَنَّ لَهُ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدًا فِيهَا ذلِكَ الْخِزى الْعَظِيمُ۔کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ جو شخص خدا اور رسول کی مخالفت کرے خدا اس کو جہنم میں ڈالے گا اور وہ اس میں ہمیشہ رہے گا۔یہ ایک بڑی رسوائی ہے۔(حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۳۳) وَعَدَ اللهُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَتِ جَنْتٍ تَجْرِى مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهُرُ خَلِدِينَ فِيهَا وَ مَسكِنَ طَيِّبَةً فِي جَنْتِ عَدْنٍ وَرِضْوَانٌ مِنَ اللهِ أَكْبَرُ ذلِكَ هُوَ الْفَوْرُ العظيم اعلیٰ درجہ کی خوشی خدا میں ملتی ہے جس سے پرے کوئی خوشی نہیں ہے جنت پوشیدہ کو کہتے ہیں۔اور جنت کو جنت اس لیے کہتے ہیں کہ وہ نعمتوں سے ڈھکی ہوئی ہے اصل جنت خدا ہے جس کی طرف تردد منسوب ہی نہیں ہوتا اس لیے بہشت کے اعظم ترین انعامات میں رِضْوَانٌ مِنَ الله اکبر ہی رکھا ہے۔انسان انسان کی حیثیت سے کسی نہ کسی دکھ اور تردد میں ہوتا مگر جس قدر قرب الہی حاصل کرتا جاتا ہے اور تَخَلَّفُوا بِأَخْلَاقِ اللہ سے رنگین ہوتا جاتا ہے اس قدر اصل سکھ اور آرام پاتا ہے جس قدر قرب الہی ہوگا، لازمی طور پر اسی قدر خدا کی نعمتوں سے حصہ لے گا اور رفع کے معنی اسی پر دلالت کرتے ہیں۔احکم جلد ۵ نمبر ۶ مورخہ ۱۷ فروری ۱۹۰۱ء صفحہ ۷) پتو ط ياَيُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنْفِقِينَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ وَمَأْولهُمْ جَهَنَّمُ