تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 310 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 310

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام وَبِئْسَ الْمَصِيرُ ۳۱۰ سورة التوبة دشنام اور سب اور شتم فقط اس مفہوم کا نام ہے جو خلاف واقعہ اور دروغ کے طور پر محض آزار رسانی کی غرض سے استعمال کی جائے اور اگر ہر یک سخت اور آزار دو تقریر کو محض بوجہ اس کے مرارت اور تلخی اور ایذارسانی کے دشنام کے مفہوم میں داخل کر سکتے ہیں تو پھر اقرار کرنا پڑے گا کہ سارا قرآن شریف گالیوں سے پر ہے کیونکہ جو کچھ بتوں کی ذلت اور بت پرستوں کی حقارت اور ان کے بارہ میں لعنت ملامت کے سخت الفاظ قرآن شریف میں استعمال کیے گئے ہیں یہ ہر گز ایسے نہیں ہیں جن کے سننے سے بت پرستوں کے دل خوش ہوئے ہوں بلکہ بلا شبہ ان الفاظ نے ان کے غصہ کی حالت کی بہت تحریک کی ہوگی کیا خدائے تعالیٰ کا کفار مکہ کو مخاطب کر کے یہ فرمانا کہ اِنكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ (الانبياء : ٩٩) معترض کے من گھڑت قاعدہ کے موافق گالی میں داخل نہیں ہے کیا خدائے تعالیٰ کا قرآن شریف میں کفار کو شر البریہ قرار دینا اور تمام رذیل اور پلید مخلوقات سے انہیں بدتر ظاہر کرنا یہ معترض کے خیال کے رو سے دشنام وہی میں داخل نہیں ہو گا کیا خدائے تعالیٰ نے قرآن شریف میں والغلظ عَلَيْهِمْ نہیں فرمایا۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۰۹) غرض ان آیات سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ خود خدا تعالیٰ نے بھی حفظ مراتب کا لحاظ رکھا ہے۔مؤمنین اور ایمان داروں کے واسطے کیسی نرمی کا حکم ہے اور کفار میں سے بعض میں مادہ ہی ایسا ہوتا ہے کہ ان کو سختی کی ضرورت ہوتی ہے جس طرح سے بعض بیماریوں یا زخموں میں ایک حکیم حاذق کو چیر پھاڑی اور عمل جراحی سے کام لینا پڑتا ہے۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۲۷ مورخہ ۱/۱۴ پریل ۱۹۰۸ء صفحه ۳) فَرِحَ الْمُخَلَّفُونَ بِمَقْعَدِهِمْ خِلْفَ رَسُولِ اللَّهِ وَ كَرِهُوا أَنْ يُجَاهِدُوا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللهِ وَقَالُوا لَا تَنْفِرُوا فِي الْحَرِ ۖ قُلْ نَارُ جَهَنَّمَ اَشَدُّ حَرًّا لَوْ كَانُوا يَفْقَهُونَ۔ہماری جماعت کا ایمان تو صحابہ والا چاہیے جنہوں نے اپنے سر خدا کی راہ میں کٹوا دئیے تھے۔اگر آج ہماری جماعت کو یورپ اور امریکہ میں اشاعت اسلام کے لیے جانے کو کہا جاوے تو اکثر یہی کہہ دیں گے جی ہمارے