تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 308 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 308

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة التوبة اس نے ہمارے مطلب کو نہیں سمجھا اور پہلی آیت کو دیکھ کر صرف اپنے اندرونی بغض کی وجہ سے ایک شاعرانہ مذاق پر مضمون لکھنا شروع کر دیا۔ہم دواؤں سے کب انکار کرتے ہیں۔ہم تو قائل ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک شئے میں بعض فوائد ر کھے چونکہ اللہ تعالیٰ نے اس (طاعون ) کے متعلق ہمیں قبل از وقت سوجھا دیا ہے کہ یہ اس کا حقیقی علاج ہے اور یہ امر اس نے ہمیں بطور نشان کے دیا ہے تو اب ہم نشان کو کیسے مشتبہ کریں۔جب اللہ تعالیٰ کوئی نشان دیوے تو اس کی بے قدری کر نا صرف معصیت ہی نہیں بلکہ کفر تک نوبت پہنچا دیتا ہے۔ہر مرتبہ از وجود اثری دارد گر حفظ مراتب نہ کنی زندیقی ( بدر جلد نمبر ۵، ۶ مورخه ۲۸ / نومبر ۵/ دسمبر ۱۹۰۲ء صفحه ۳۸) وَمَا مَنَعَهُمْ أَنْ تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقَتُهُمْ إِلَّا أَنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّهِ وَبِرَسُولِهِ وَلَا يَأْتُونَ الصَّلوةَ الاَ وَهُمْ كَسَالَى وَلَا يُنْفِقُونَ إِلا وَهُمْ كَرِهُونَ۔(۵۴) یعنی اس بات کا سبب جو کفار کے صدقات قبول نہیں کیے جاتے صرف یہ ہے کہ وہ خدا اور اس کے رسول سے منکر ہیں۔اب دیکھو ان آیات سے صاف ظاہر ہے کہ جو لوگ رسول پر ایمان نہیں لاتے ان کے اعمال ضائع ہو جاتے ہیں۔خدا ان کو قبول نہیں کرتا اور پھر جب اعمال ضائع ہوئے تو نجات کیوں کر ہوگی۔(حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۳۲) یہ تمام آیات ان لوگوں کے متعلق ہیں جنہوں نے رسول کے وجود پر اطلاع پائی اور رسول کی دعوت ان کو پہنچ گئی اور جو لوگ رسول کے وجود سے بالکل بے خبر رہے اور نہ ان کو دعوت پہنچی۔ان کی نسبت ہم کچھ نہیں کہہ سکتے ان کے حالات کا علم خدا کو ہے۔ان سے وہ وہ معاملہ کرے گا جو اس کے رحم اور انصاف کا (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۳۲) مقتضاء ہے۔اِنَّمَا الصَّدَقْتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسْكِينِ وَ الْعَمِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُم وَ فِي الرِّقَابِ وَالْغَرِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللهِ وَاللهُ دو، سم حلیم خیرات اور صدقات وغیرہ پر جو مال دیا جائے اس میں یہ ملحوظ رہنا چاہیے کہ پہلے جس قدر محتاج ہیں ان کو