تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 303 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 303

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة التوبة خداوہ قادر ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچائی دین دے کر بھیجا تاسب دینوں پر حجت کی رو سے اس کو غالب کرے ( یہ وہ پیشگوئی ہے جو پہلے سے قرآن شریف میں انہیں دنوں کے لیے لکھی گئی ہے۔) (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۹۳) وہ وہی خدا ہے جس نے اپنا رسول ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا تا وہ دین سب دینوں پر غالب ہو جائے اگر چہ مشرک ناخوش ہوں۔اب دیکھئے کہ ان آیات کریمہ میں اللہ جل شانہ نے صاف طور پر فرمایا ہے کہ عیسائیوں سے پہلے یہودی یعنی بعض یہودی بھی عزیر کو ابن اللہ قرار دے چکے اور نہ صرف وہی بلکہ مقدم زمانہ کے کافر بھی اپنے پیشواؤں اور اماموں کو یہی منصب دے چکے پھر ان کے پاس اس بات پر کیا دلیل ہے کہ وہ لوگ اپنے اماموں کو خدا ٹھہرانے میں جھوٹے تھے اور یہ سچے ہیں اور پھر اس بات کی طرف اشارہ فرماتا ہے کہ یہی خرابیاں دنیا میں پڑ گئی تھیں جن کی اصلاح کے لیے اس رسول کو بھیجا گیا تا کامل تعلیم کے ساتھ ان خرابیوں کو دور کرے کیونکہ اگر یہودیوں کے ہاتھ میں کوئی کامل تعلیم ہوتی تو وہ بر خلاف توریت کے اپنے عالموں اور درویشوں کو ہرگز خدانہ ٹھہراتے۔اس سے معلوم ہوا کہ وہ کامل تعلیم کے محتاج تھے جیسا کہ حضرت مسیح نے بھی اس بات کا اقرار کیا کہ ابھی بہت سی باتیں تعلیم کی باقی ہیں کہ تم ان کی برداشت نہیں کر سکتے یعنی جب وہ یعنی روح حق آوے تو وہ تمہیں ساری سچائی کی راہ بتادے گی اس لیے کہ وہ اپنی نہ کہے گی لیکن وہ جو کچھ سنے گی وہ کہے گی اور تمہیں آئندہ کی خبریں دے گی۔حضرات عیسائی صاحبان اس جگہ روح حق سے روح القدس مراد لیتے ہیں اور اس طرف توجہ نہیں فرماتے کہ روح القدس تو ان کے اصول کے موافق خدا ہے تو پھر وہ کس سے سنے گا حالانکہ لفظ پیشگوئی کے یہ ہیں کہ جو کچھ وہ سنے گی وہ کہے گی۔(جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۱۶۸،۱۶۷) ياَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ كَثِيرًا مِنَ الْأَحْبَارِ وَالرُّهْبَانِ لَيَأْكُلُونَ أَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَ يَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللهِ وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبَشِّرُهُمْ بِعَذَابِ اليْم (۳۴) مسلمانو! اہل کتاب کے اکثر عالم اور مشائخ لوگوں کے مال ناحق کھاتے ہیں یعنی ناجائز طور پر ان کا رو پیدا اپنے قبضہ میں کر لیتے ہیں اور خدا کی راہ سے لوگوں کو روکتے رہتے ہیں اور اس طرح پر نا جائز طور پر