تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 301 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 301

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٣٠١ سورة التوبة انہوں نے اپنے عالموں کو، اپنے درویشوں کو اللہ کے سوا پروردگار ٹھہرالیا اور ایسا ہی مسیح ابن مریم کو۔حالانکہ ہم نے یہ حکم کیا تھا کہ تم کسی کی بندگی نہ کرو مگر ایک کی جو خدا ہے جس کا کوئی شریک نہیں۔(جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۱۶۷) يُرِيدُونَ أَنْ يُطْفِئُوا نُورَ اللهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَيَأْبَى اللَّهُ إِلَّا أَنْ يُتِمَّ نُورَةُ وَلَوْ كَرِهَ الكفرون چاہتے ہیں کہ خدا کے نور کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھائیں پر خدا اپنے کام سے ہر گز نہیں رکے گا جب تک اس نور کو کامل طور پر پورا نہ کرے اگر چہ کا فرلوگ کراہت ہی کریں۔(براہین احمدیہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۴۸ حاشیہ نمبر ۱۱) چاہتے ہیں کہ اپنے مونہوں کی پھونکوں سے حق کو بجھا دیں اور اللہ تعالیٰ باز نہیں رہے گا جب تک اپنے نور کو پورا نہ کرے اگر چہ کا فر نا خوش ہوں۔(جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۱۶۷) یہ لوگ اپنے منہ کی لاف گزاف سے بکتے ہیں کہ اس دین کو بھی کامیابی نہ ہوگی یہ دین ہمارے ہاتھ سے تباہ ہو جاوے گالیکن خدا کبھی اس دین کو ضائع نہیں کرے گا اور نہیں چھوڑے گا جب تک اس کو پورا نہ کرے۔۔۔۔۔اب قرآن شریف موجود ہے حافظ بھی بیٹھے ہیں۔دیکھ لیجیے کہ کفار نے کس دعویٰ کے ساتھ اپنی رائیں ظاہر کیں کہ یہ دین ضرور معدوم ہو جائے گا اور ہم اس کو کالعدم کر دیں گے اور ان کے مقابل پر یہ پیشینگوئی کی گئی جو قرآن شریف میں موجود ہے کہ ہر گز تباہ نہیں ہوگا یہ ایک بڑے درخت کی طرح ہو جائے گا اور پھیل جائے گا اور اس میں بادشاہ ہوں گے۔جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۹۱،۲۹۰) یہ شریر کافر اپنے منہ کی پھونکوں سے نور اللہ کو بجھانا چاہتے ہیں اور اللہ اپنے نور کو کامل کرنے والا ہے۔کافر برا مناتے رہیں۔منہ کی پھونکیں کیا ہوتی ہیں۔یہی کسی نے ٹھگ کہہ دیا۔کسی نے دکاندار اور کافر بیدین کہہ دیا۔غرض یہ لوگ ایسی باتوں سے چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نور کو بجھا دیں مگر وہ کامیاب نہیں ہو سکتے۔نور اللہ کو بجھاتے بجھاتے خود ہی جل کر ذلیل ہو جاتے ہیں۔الحکم جلد ۵ نمبر ۳ مورخه ۲۴ جنوری ۱۹۰۱ء صفحه ۳) هُوَ الَّذِى اَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ