تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 291
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطِنِ الرَّحِيمِ ۲۹۱ سورة التوبة بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة التوبة بیان فرموده سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فَسِيحُوا فِي الْأَرْضِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِى اللهِ وَ اَنَّ اللهَ مُخْزِي الْكَفِرِينَ وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِی اللہ الے اور تم یقینا جانو کہ تم خدا کو اس کے کاموں میں کبھی عاجز نہیں کر سکتے۔اور خدا تمہیں رسوا کرے گا۔( براہینِ احمد یہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۶۲ حاشیہ نمبر۱۱) دو وَ إِنْ أَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ اسْتَجَارَكَ فَأَجِرْهُ حَتَّى يَسْمَعَ كَلَمَ اللَّهِ ثُمَّ ابْلِغْهُ مَامَنَهُ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمُ لَا يَعْلَمُونَ ) اگر تجھ سے اے رسول کوئی شخص مشرکوں میں سے پناہ کا خواستگار ہو تو اس کو پناہ دے دو اور اُس وقت تک اُس کو اپنی پناہ میں رکھو کہ وہ اطمینان سے خدا کے کلام کو سن سمجھ لے اور پھر اُس کو اُس کے امن کی جگہ پر واپس پہنچا دو۔یہ رعایت ان لوگوں کے حق میں اس وجہ سے کرنی ضرور ہے کہ یہ لوگ اسلام کی حقیقت سے واقف نہیں ہیں۔اب ظاہر ہے کہ اگر قرآن شریف جبر کی تعلیم کرتا تو یہ حکم نہ دیتا کہ جو کا فرقرآن شریف کو سننا چاہے تو جب وہ سن چکے اور مسلمان نہ ہو تو اُس کو اُس کے امن کی جگہ پر پہنچادینا چاہئے بلکہ یہ حکم دیتا کہ جب ایسا کا فرقا بو میں آجاوے تو وہیں اُس کو مسلمان کرلو۔(چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۳۳)