تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 272 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 272

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام معْرِضُونَ ۲۷۲ سورة الانفال اس میں بھی خدا تعالی کی حکمت ہے کہ فلاں فلاں مسلمان عالم ہمارے سلسلہ میں داخل نہیں اگر یہ داخل ہوتے تو خدا جانے کیا کیا فتنے برپا کرتے۔کو عَلِمَ اللهُ فِيهِمْ خَيْرًا لَّاَسْمَعَهُمْ -۔(البدر جلد ۶ نمبر ۱۹ مؤرخہ ۹ مئی ۱۹۰۷ء صفحه ۴) يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُوا اَنَّ اللهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّةٌ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ ) ۲۵ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس کے ہاتھ پر مردے زندہ ہوتے ہیں لِمَا يُجيكُم اور سب کو معلوم ہے کہ اس سے مراد روحانی مردوں کا زندہ ہوتا ہے۔( بدر جلدے نمبر ۱۹ مورخه ۲۴ مئی ۱۹۰۸ء صفحه ۵) اور جانو کہ خدا انسان اور اس کے دل کے درمیان آجاتا ہے یعنی جیسا کہ دور اور نزدیک ہونا اس کی صفت ہے ایسا ہی درمیان آجانا بھی اس کی صفت ہے۔ست بچن ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲۳۲) اَنَّ اللهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَ قَلْبِہ یعنی خدا وہ ہے جو انسان اور اس کے دل میں حائل ہو جاتا ہے۔(چشمه معرفت ، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۹۷ ) وَاعْلَمُوا أَنَّمَا اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ وَ اَنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ أَجْرٌ عَظِيمٌ ۲۹ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اَنَّمَا اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ اولا د اور مال انسان کے لیے فتنہ ہوتے ہیں۔دیکھو! اگر خدا کسی کو کہے کہ تیری کل اولاد جو مر چکی ہے زندہ کر دیتا ہوں مگر پھر میرا تجھ سے کچھ تعلق نہ ہوگا، تو کیا اگر وہ نظمند ہے اپنی اولاد کی طرف جانے کا خیال بھی کرے گا ؟ پس انسان کی نیک بختی یہی ہے کہ خدا کو ہر ایک چیز پر مقدم رکھے جو شخص اپنی اولاد کی وفات پر برا مناتا ہے وہ بخیل بھی ہوتا ہے کیونکہ وہ اس امانت کے دینے میں جو خدا نے اس کے سپرد کی تھی بخل کرتا ہے اور بخیل کی نسبت حدیث میں آتا ہے کہ اگر وہ جنگل کے دریاؤں کے برابر بھی عبادت کرے تو وہ جنت میں نہیں جائے گا۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۴۸ مورخه ۲۲ اگست ۱۹۰۸ صفحه ۲،۱)