تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 266 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 266

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۶۶ سورة الاعراف مشکلات میں پڑے گی جو اس کے لیے لازمی ہیں۔جو شخص اپنی رائے کو خدا تعالیٰ کی رائے اور منشاء سے متفق کرتا ہے وہ اولاد کی طرف سے مطمئن ہو جاتا ہے اور وہ اسی طرح پر ہے کہ اس کی صلاحیت کے لیے کوشش کرے اور دعائیں کرے۔اس صورت میں خود اللہ تعالیٰ اس کا تکفل کرے گا اور اگر بد چلن ہے تو جائے جہنم میں اس کی پر واہ تک نہ کرے۔الحکم جلد ۹ نمبر ۳۹ مورخه ۱۰رنومبر ۱۹۰۵ صفحه ۶) اللہ تعالیٰ نے اس بات کو اور بھی صاف کرنے اور وضاحت سے دنیا پر کھول دینے کے لئے انبیاء علیہم السلام کا ایک سلسلہ دنیا میں قائم کیا۔اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر تھا اور قادر ہے کہ اگر وہ چاہے تو کسی قسم کی امداد کی ضرورت ان رسولوں کو باقی نہ رہنے دے مگر پھر بھی ایک وقت ان پر آتا ہے کہ وہ من انصاری الی اللہ کہنے پر مجبور ہوتے ہیں۔کیا وہ ایک ٹکر گدا فقیر کی طرح بولتے ہیں؟ نہیں من انصاری الی اللہ کہنے کی بھی ایک شان ہوتی ہے وہ دنیا کو ایک رعایت اسباب سکھانا چاہتے ہیں جو دعا کا ایک شعبہ ہے ورنہ اللہ تعالیٰ پر ان کو کامل ایمان اس کے وعدوں پر پورا یقین ہوتا ہے وہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ کہ إِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ وو امَنُوا فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا ایک یقینی اور حتمی وعدہ ہے۔میں کہتا ہوں کہ بھلا اگر خدا کسی کے دل میں مدد کا خیال نہ ڈالے تو کوئی کیوں کر مدد کر سکتا ہے اصل بات یہی ہے کہ حقیقی معاون و ناصر وہی پاک ذات ہے جس کی شان ہے نعم المولى ونعم الوکیل و نعم النصیر۔دنیا اور دنیا کی مدد میں ان لوگوں کے سامنے حال میت ہوتی ہیں اور مردہ کیڑے کے برابر بھی حقیقت نہیں رکھتی ہیں لیکن دنیا کو دعا کا ایک موٹا طریق بتلانے کے لئے وہ یہ راہ بھی اختیار کرتے ہیں وہ حقیقت میں اپنے کاروبار کا متولی خدا تعالیٰ ہی کو جانتے ہیں اور یہ بات بالکل سچ ہے وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّلِحِينَ ریویو آف ریلیجنز جلد ۳ نمبر اصفحه ۸) وَ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ لَا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَكُمْ وَلَا أَنْفُسَهُمْ ووو ينصرون ہیں۔ވމ ۱۹۸ جن چیزوں کو تم اپنی مدد کے لیے پکارتے ہو وہ ممکن نہیں ہے جو تمہاری مددکر سکیں اور نہ کچھ اپنی مدد کر سکتے ( براہینِ احمدیہ چہار صص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۵۱۹ حاشیه در حاشیہ نمبر ۳) وَ اِنْ تَدعُوهُمْ إِلَى الْهُدى لَا يَسْمَعُوا وَ تَراهُمْ يَنْظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لَا يبصرون ١٩٩ اس کا مرنا اور جینا اپنے لئے نہیں بلکہ خدا ہی کے لئے ہو جائے۔تب وہ خدا جو ہمیشہ سے پیار کرنے