تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 262 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 262

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۶۲ سورة الاعراف (سوال پیش ہوا کہ جولوگ لڑائیوں میں جاتے ہیں اور وہاں قتل کرتے ہیں کیا وہ قتل ان کا گناہ ہے یا نہیں؟) ( فرمایا : ( عِلْمُهَا عِندَ رَبّی میں اس کے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتا۔اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ اس نے اچھا کیا یا برا کیا۔الحکم جلد ۹ نمبر ۴۰ مورخه ۷ ارنومبر ۱۹۰۵ صفحه ۱۰) اَلَهُمْ اَرْجُلُ يَمْشُونَ بِهَا اَمَ لَهُمُ أَي يَبْطِشُونَ بِهَا أَمْ لَهُمْ أَعْيُنَ يُبْصِرُونَ بِهَا أَمْ لَهُمْ أَذَانَ يَسْمَعُونَ بِهَا قُلِ ادْعُوا شُرَكَاءَكُمْ ثُمَّ كِيدُونِ فَلَا تُنْظِرُون (۱۹۶ کیا ان کے پاؤں ہیں جن سے وہ چلتے ہیں ، کیا ان کے ہاتھ ہیں جن سے وہ پکڑتے ہیں کیا ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے ہیں ، کیا ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے ہیں؟ برائن احمد یه چهار ص ، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۵۲۳ حاشیه در حاشیه نمبر ۳) قُلِ ادْعُوا شُرَكَاءَ كُمُ الحَ ان کو کہ کہ تم میرے مغلوب کرنے کے لیے اپنے معبودوں سے کہ جو تمہارے زعم میں خدا کے شریک ہیں مدد طلب کرو اور میرے نا کام رہنے کے لیے ہر ایک طور کا مکر کرو اور مجھے ذرا مہلت مت دو۔(براہین احمدیہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۵۰ حاشیہ نمبر۱۱) حق کی یہ بھی ایک پہچان ہے اور اس کی شناخت کا یہ ایک عمدہ معیار ہے کہ دنیا اپنے سارے ہتھیاروں سے اس کی مخالفت پر ٹوٹ پڑے، جان سے، مال سے، اعضاء سے عزت سے اور اندرونی اور بیرونی لوگ اور اپنے اور پرائے گویا سب ہی اس کی مخالفت پر کھڑے ہو جاویں اور پھر وہ ( حق ) آگے ہی آگے قدم رکھتا جاوے اور کوئی روک اس کی ترقی کو روک نہ سکے چنانچہ قرآن شریف میں ہے فَكِيدُونِي جَمِيعًا ثُمَّ لَا تنظرون الخ سواس معیار سے ہمارے سلسلہ کو پر کھا جائے تو ایک طالب حق کے واسطے کوئی شک وشبہ باقی نہیں رہتا۔دیکھ لونہ ہمارا کوئی واعظ ہے، نہ کوئی لیکچرار اور دشمن بھی کیا اندرونی اور کیا بیرونی سب اکٹھے ہو کر ہمارے تباہ کرنے کی کوشش میں لگے رہے مگر اللہ تعالیٰ نے ہر میدان میں ہمیں کامیاب کیا اور دشمن ذلیل ہوئے کفر کے فتویٰ لگائے قتل کا مقدمہ کیا۔غرض کہ انہوں نے کوئی دقیقہ ہماری بربادی کا اُٹھا نہ رکھا مگر کیا خدا ( تعالیٰ) سے کوئی جنگ کر سکتا ہے؟ ہماری ترقی کے خود مخالف ہی باعث اور محرک ہیں۔بہت لوگوں نے انہیں کے رسائل سے اطلاع پا کر ہماری بیعت کی اگر واعظ وغیرہ ہماری طرف سے ہوتے تو ہمیں ان کا بھی