تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 257 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 257

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵۷ سورة الاعراف ہوتا ہے۔ہر گز نہیں ! وہ اطمینان اور وہ تسلی اور وہ تسکین جو بہشت کے انعامات میں سے ہے۔ان باتوں سے نہیں ملتی وہ خدا ہی میں زندہ رہنے اور مرنے سے مل سکتی ہے جس کے لیے انبیاء علیہم السلام خصوصاً ابراہیم اور یعقوب علیہما السلام کی بھی وصیت تھی کہ : لَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَ انْتُمْ مُسْلِمُونَ (البقرة : ۱۳۳) - لذات دنیا تو ایک قسم کی نا پاک حرص پیدا کر کے طلب اور پیاس کو بڑھا دیتی ہیں، استقاء کے مریض کی طرح پیاس نہیں بجھتی یہاں تک کہ وہ ہلاک ہو جاتے ہیں۔پس یہ بے جا آرزوؤں اور حسرتوں کی آگ بھی منجملہ اسی جہنم کی آگ کے ہے۔جو انسان کے دل کو راحت اور قرار نہیں لینے دیتی بلکہ اس کو ایک تذبذب اور اضطراب میں غلطان پیچان رکھتا ہے اس لیے میرے دوستوں کی نظر سے یہ امر ہر گز پوشیدہ نہ رہے کہ انسان مال و دولت یازن و فرزند کی محبت کے جوش اور نشے میں ایسا دیوانہ اور از خود رفتہ نہ ہو جاوے کہ اس میں اور خدا تعالیٰ میں ایک حجاب پیدا ہو جاوے مال اور اولاد اسی لیے تو فتنہ کہلاتی ہے، ان سے بھی انسان کے لیے ایک دوزخ تیار ہوتا ہے اور جب وہ ان سے الگ کیا جاتا ہے تو سخت بے چینی اور گھبراہٹ ظاہر کرتا ہے اور اس طرح پر یہ بات کہ : نَارُ اللهِ الْمُوْقَدَةُ الَّتِي تَطَّلِعُ عَلَى الْأَنْدَةِ ( الهمزة : ۸،۷)۔منقولی رنگ میں نہیں رہتا بلکہ معقولی شکل اختیار کر لیتا ہے پس یہ آگ جو انسانی دل کو جلا کر کباب کر دیتی ہے اور ایک جلے ہوئے کوئلے سے بھی سیاہ اور تاریک بنادیتی ہے یہ وہی غیر اللہ کی محبت ہے۔دو چیزوں کے باہم تعلق اور رگڑ سے ایک حرارت پیدا ہوتی ہے اسی طرح پر انسان کی محبت اور دنیا اور دنیا کی چیزوں کی محبت کی رگڑ سے الہی محبت جل جاتی ہے اور دل تاریک ہو کر خدا سے دور ہو جاتا اور ہر قسم کی بیقراری کا شکار ہو جاتا ہے لیکن جبکہ دنیا کی چیزوں سے جو تعلق ہو وہ خدا میں ہو کر ایک تعلق ہو اور ان کی محبت خدا کی محبت میں ہو کر ہو اس وقت باہمی رگڑ سے غیر اللہ کی محبت جل جاتی ہے اور اس کی جگہ ایک روشنی اور نور بھر دیا جاتا ہے پھر خدا کی رضا اس کی رضا اور اس کی رضا خدا کی رضا کا منشاء ہو جاتا ہے اس حالت پر پہنچ کر خدا کی محبت اس کے لیے بمنزلہ جان ہوتی ہے اور جس طرح زندگی کے واسطے لوازم زندگی ہیں۔اس کی زندگی کے واسطے خداور صرف خدا ہی کی ضرورت ہوتی ہے۔دوسرے لفظوں میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ اس کی خوشی اور راحت خدا ہی میں ہوتی ہے۔پھر دنیاداروں کے نزدیک اگر اسے کوئی رنج اور کرب پہنچے تو پہنچے لیکن اصل یہی بات ہے کہ اس ہم و غم میں بھی وہ اطمینان اور سکینت سے الہی لذت لیتا ہے جو کسی دنیا دار کی نظر کے بڑے سے بڑے فارغ البال کو بھی نصیب نہیں۔