تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 258
تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۲۵۸ سورة الاعراف برخلاف اس کے جو کچھ حالت انسان کی ہے وہ جہنم ہے گویا خدا تعالیٰ کے سوازندگی بسر کرنا یہ بھی جہنم ہے پھر حدیث شریف سے یہ بھی پتہ لگتا ہے کہ آپ بھی حرارت جہنم ہی ہے، امراض اور مصائب جو مختلف قسم کے انسان کو لاحق حال ہوتے ہیں یہ بھی جہنم ہی کا نمونہ ہیں اور یہ اس لیے کہ تا دوسرے عالم پر گواہ ہوں اور جزاوسزا کے مسئلے کی حقیقت پر دلیل ہوں اور کفارہ کے لغو مسئلہ کی تردید کریں۔مثلاً جذام ہی کو دیکھو کہ اعضاء گر گئے ہیں اور رقیق مادہ اعضاء سے جاری ہے۔آواز بیٹھ گئی ہے۔ایک تو یہ بجائے خود جہنم ہے پھر لوگ نفرت کرتے ہیں اور چھوڑ جاتے ہیں۔عزیز سے عزیز بیوی فرزند ماں باپ تک کنارہ کش ہو جاتے ہیں۔بعض اندھے اور بہرے ہو جاتے ہیں بعض اور خطرناک امراض میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔پتھریاں ہو جاتی ہیں۔اندر پیٹ میں رسولیاں ہوجاتی ہیں۔یہ ساری بلائیں اس لیے انسان پر آتی ہیں کہ وہ خدا سے دور ہو کر زندگی بسر کرتا ہے اور اس کے حضور شوخی اور گستاخی کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی باتوں کی عزت اور پرواہ نہیں کرتا اس وقت ایک جہنم پیدا ہو جاتا ہے۔اب میں پھر اصل مطلب کی طرف رجوع کر کے کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے جہنم کے لیے اکثر انسانوں اور جنوں کو پیدا کیا ہے اور پھر فرمایا کہ وہ جہنم انہوں نے خود ہی بنا لیا ہے ان کو جنت کی طرف بلا یا جاتا ہے۔پاک دل پاکیزگی سے باتیں سنتا ہے اور ناپاک خیال انسان اپنی کو انہ عقل پر عمل کر لیتا ہے پس آخرت کا جہنم بھی ہوگا اور دنیا کے جہنم سے بھی مخلصی اور رہائی نہ ہوگی کیونکہ دنیا کا جہنم تو اس جہنم کے لیے بطور دلیل اور ثبوت کے ہے۔الحکم جلد ۴ نمبر ۳۳ مورخه ۱۶ستمبر ۱۹۰۰ء صفحه ۷،۶) وہ لوگ جو صرف باپ دادے کی تقلید پر چلنے والے ہیں وہ دل تو رکھتے ہیں پر دلوں سے سمجھنے کا کام نہیں لیتے اور ان کی آنکھیں بھی ہیں پر آنکھوں کو دیکھنے سے معطل چھوڑا ہوا ہے اور کان بھی رکھتے ہیں پر وہ بھی بیکار پڑے ہوئے ہیں یہ لوگ چار پایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی گئے گزرے۔( براہینِ احمدیہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۹۱٬۹۰ حاشیہ نمبر ۵) أوليك كالأَنْعَامِ الجزو نمبر و یعنی ایسے ہیں جیسے چار پائے اور نور فطرتی ان کا اس قدر کم ہے کہ ان میں اور مویشی میں کچھ تھوڑا ہی فرق ہے۔برائین احمد یہ چہار صص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۱۸۵ حاشیہ نمبر ۱۱) ص لِلهِ الأَسْمَاءِ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا وَذَرُوا الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي