تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 248
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴۸ سورة الاعراف وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ أَفْوَاجًا ( النصر : ۳۲)۔اس میں اس امر کی طرف صریح اشارہ ہے کہ آپ اس وقت دنیا میں آئے جب دین اللہ کو کوئی جانتا بھی نہ تھا اور عالمگیر تاریکی پھیلی ہوئی تھی اور گئے اس وقت کہ جبکہ اس نظارہ کو دیکھ لیا کہ یہ خُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا النصر : ٣)۔احکام جلد ۵ نمبر ۲ مورخہ ۷ ارجنوری ۱۹۰۱ صفحه ۳) جب دل میں پاکیزگی اور طہارت پیدا ہوتی ہے تو اس میں ترقی کے لیے ایک خاص طاقت اور قوت پیدا ہو جاتی ہے پھر اس کے لیے ہر قسم کے سامان مہیا ہو جاتے ہیں اور وہ ترقی کرتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھو کہ بالکل اکیلے تھے اور اس بیکسی کی حالت میں دعویٰ کرتے ہیں : يَايُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللهِ الَيْكُمْ جَمِيعًا۔کون اس وقت خیال کر سکتا تھا کہ یہ دعوی ایسے بے یارو مدد گار شخص کا بار آور ہوگا پھر ساتھ ہی اس قدر مشکلات آپ کو پیش آئے کہ ہمیں تو ان کا ہزارواں حصہ بھی نہیں آئے۔الحکم جلد ۹ نمبر ۳۳ مورخه ۲۴ رستمبر ۱۹۰۵ء صفحه ۱۰) قرآن شریف نے ہی کھلے طور پر یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ دنیا کی تمام قوموں کے لیے آیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے : قُلْ يَايُّهَا النَّاسُ إِنِّى رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا۔یعنی تمام لوگوں کو کہہ دے کہ میں تم سب کے لیے رسول ہو کر آیا ہوں اور پھر فرماتا ہے : وَمَا اَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةٌ لِلْعَلَمِينَ (الانبياء: ۱۰۸) یعنی میں نے تمام عالموں کے لیے مجھے رحمت کر کے بھیجا ہے اور پھر فرماتا ہے : لِيَكُونَ لِلْعَلَمِينَ نَذِيرًا (الفرقان : ۲) یعنی ہم نے اس لیے بھیجا ہے کہ تمام دنیا کو ڈراوے لیکن ہم بڑے زور سے کہتے ہیں کہ قرآن شریف سے پہلے دنیا کی کسی الہامی کتاب نے یہ دعوی نہیں کیا بلکہ ہر ایک نے اپنی رسالت کو اپنی قوم تک ہی محدود رکھا یہاں تک کہ جس نبی کو عیسائیوں نے خدا قرار دیا اس کے منہ سے بھی یہی نکلا کہ میں اسرائیل کی بھیڑوں کے سوا اور کسی کی طرف نہیں بھیجا گیا اور زمانہ کے حالات نے بھی گواہی دی کہ قرآن شریف کا یہ دعوی تبلیغ عام کا معین موقعہ پر ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے وقت تبلیغ عام کا دروازہ کھل گیا تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے ہاتھ سے بعد نزول اس آیت کے کہ : قل يَايُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللهِ الَیكُمْ جَمِيعًا۔دنیا کے بڑے بڑے بادشاہوں کی طرف دعوت اسلام کے خط لکھے تھے کسی اور نبی نے غیر قوموں کے بادشاہوں کی طرف دعوت دین کے ہرگز خط نہیں لکھے کیونکہ وہ دوسری قوموں کی دعوت کے لیے مامور نہ تھے۔یہ عام دعوت کی تحریک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ