تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 247
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴۷ سورة الاعراف گیا: قُلْ يَايُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا اور مَا اَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ (الانبياء : ١٠٨) جس شخص کی بعثت اور رسالت کا دائرہ اس قدر وسیع ہو اس کا مقابلہ کون کر سکتا ہے۔الحکم جلدے نمبر ۲۰ مورخه ۳۱ مئی ۱۹۰۳ صفحه ۲) عادت اللہ اسی طرح پر ہے زمانہ ترقی کرتا ہے آخر وہ زمانہ آ گیا جو خاتم النبیین کا زمانہ تھا جو ایک ہی شخص تھا جس نے یہ کہا: يَايُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا کہنے کو تو یہ چند لفظ ہیں اور ایک اندھا کہہ سکتا ہے کہ معمولی بات ہے مگر جو دل رکھتا ہے وہ سمجھتا ہے اور جو کان رکھتا ہے وہ سنتا ہے جو آنکھیں رکھتا ہے وہ دیکھتا ہے کہ یہ الفاظ معمولی الفاظ نہیں ہیں میں کہتا ہوں اگر یہ معمولی لفظ تھے تو بتلاؤ کہ موسیٰ علیہ السلام کو یا مسیح علیہ السلام یا کسی نبی کو بھی یہ طاقت کیوں نہ ہوئی کہ وہ یہ لفظ کہہ دیتا۔اصل یہی ہے جس کو یہ قوت یہ منصب نہیں ملا وہ کیوں کر کہہ سکتا ہے۔میں پھر کہتا ہوں کہ کسی نبی کو یہ شوکت یہ جلال نہ ملا جو ہمارے نبی کریم کو ملا۔بکری کو اگر ہر روز گوشت کھلاؤ تو وہ گوشت کھانے سے شیر نہ بن سکے گی شیر کا بچہ ہی شیر ہوگا۔پس یا درکھو یہی بات سچ ہے کہ اس نام کا مستحق اور واقعی حقدار ایک تھا جو محمد کہلایا۔یہ داد الہی ہے جس کے دل و دماغ میں چاہے یہ قو تیں رکھ دیتی ہے۔اور خدا خوب جانتا ہے کہ ان قوتوں کا محل اور موقعہ کون ہے ہر ایک کا کام نہیں کہ اس راز کو سمجھ سکے اور ہر ایک کے منہ میں وہ زبان نہیں جو یہ کہہ سکے کہ : انّی رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا جب تک روح القدس کی خاص تائید نہ ہو یہ کام نہیں نکل سکتا۔رسول اللہ میں وہ ساری قو تیں اور طاقتیں رکھی گئی تھیں جو محمد بنا دیتی ہیں تا کہ بالقوہ باتیں بالفعل میں بھی آجادیں اس لیے آپ نے یہ دعویٰ کیا کہ : انّی رَسُولُ الله اليْكُم جَمِيعًا - ایک قوم کے ساتھ جو مشقت کرنی پڑتی ہے تو کس قدر مشکلات پیش آتی ہیں ایک خدمتگار شریر ہو تو اس کا درست کرنا مشکل ہو جاتا ہے آخر تنگ اور عاجز آکر اس کو بھی نکال دیتا ہے لیکن وہ کس قدر قابل تعریف ہوگا جو اسے درست کر لے اور پھر وہ تو بڑا ہی مرد میدان ہے جو اپنی قوم کو درست کر سکے حالانکہ یہ بھی کوئی بڑی بات نہیں مگر وہ جو مختلف قوموں کی اصلاح کے لیے بھیجا گیا سوچو تو سہی کس قدر کامل اور زبردست قومی کا مالک ہوگا۔۔۔۔۔اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی جماعت کی طرف غور کرو تو پھر کیسا روشن طور پر معلوم ہوگا کہ آپ ہی اس قابل تھے کہ محمد نام سے موسوم ہوتے اور اس دعوی کو جیسا کہ زبان سے کیا گیا تھا کہ : ائی رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا اپنے عمل سے بھی کر کے دکھاتے چنانچہ وہ وقت آگیا کہ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ