تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 246
۲۴۶ سورة الاعراف تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے با علام الہی سب کو مخاطب کر کے کہا : یا یهَا النَّاسُ إِلى رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا۔اس لیے ضروری تھا کہ قرآن شریف ان تمام تعلیمات کا جامع ہوتا جو وقتا فوقتا جاری رہ چکی تھیں اور ان تمام صداقتوں کو اپنے اندر رکھتا جو آسمان سے مختلف اوقات میں مختلف نبیوں کے ذریعہ زمین کے باشندوں کو پہنچائی گئی تھیں۔قرآن کریم کے مد نظر تمام نوع انسان تھا نہ کوئی خاص قوم اور ملک اور زمانہ۔(رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۸۶) قرآن شریف کے دوسرے مقامات پر غور کرنے سے پتہ لگا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے اُٹھی فرمایا ہے۔اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کے سوائے آپ کا کوئی استاد نہ تھا مگر بایں ہمہ کہ آپ اُمّی تھے۔حضور کے دین میں امیون اوسط درجہ کے آدمیوں کے علاوہ اعلیٰ درجہ کے فلاسفروں اور عالموں کو بھی کر دیا۔جس سے قُلْ يَايُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا کے معنے نہایت ہی لطیف طور پر سمجھ میں آسکتے ہیں جمیعا کے دو معنے ہیں اول تمام بنی نوع انسان یا تمام مخلوق ، دوم تمام طبقہ کے آدمیوں کے لیے یعنی متوسط ادنی اور اعلیٰ درجہ کے فلاسفروں اور ہر ایک قسم کی عقل رکھنے والوں کے لیے۔غرض ہر عقل اور ہر مزاج کا آدمی مجھ سے تعلق کر سکتا ہے۔رپورٹ جلسہ سالانه ۱۸۹۷ء صفحه ۱۴۳، ۱۴۴) ایک شخص جو کل دنیا کی اصلاح کے لیے آنے والا تھا کب ہوسکتا تھا کہ وہ ایک معمولی انسان ہوتا ! جس قدر انبیاء علیہم السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے آئے وہ سب ایک ایک خاص قوم کے لیے آئے تھے اس لیے کہ ان کی شریعت مختص القوم اور مختص الزمان تھی مگر ہمارے نبی وہ عظیم الشان نبی ہیں جن کے لیے حکم ہوا کہ : مَا اَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمينَ (الانبياء : ۱۰۸) اور قُلْ يَايُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللهِ الَيْكُم جَمِيعًا۔اس لیے جس قدر عظمتیں آپ کی بیان ہوئی ہیں مصلحت الہیہ کا بھی یہی تقاضا تھا کیونکہ جس پر ختم نبوت ہونا تھا اگر وہ اپنے کمالات میں کوئی کمی رکھتا تو پھر وہی کمی آئندہ اُمت میں رہتی کیونکہ جس قدر کمالات اللہ تعالیٰ کسی نبی میں پیدا کرتا ہے اسی قدر اسی کی اُمت میں ظہور پذیر ہوتے ہیں اور جس قدر کمزور تعلیم وہ لاتا ہے اتنا ہی ضعف اس کی اُمت میں نمودار ہو جاتا ہے۔الحکم جلدے نمبر ۳ مورخہ ۲۴ جنوری ۱۹۰۳ ء صفحه ۸) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمت و استعداد اور عزم کا دائرہ چونکہ بہت ہی وسیع تھا اس لیے آپ کو جو کلام ملا وہ بھی اس پایہ اور رتبہ کا ہے کہ دوسرا کوئی شخص اس ہمت اور حوصلہ کا کبھی پیدا نہ ہوگا کیونکہ آپ کی دعوت کسی محدودوقت یا مخصوص قوم کے لیے نہ تھی جیسے آپ سے پہلے نبیوں کی ہوتی تھی بلکہ آپ کے لیے فرمایا