تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page xxvii
xxvi نمبر شمار مضمون ۲۲۷ مصر کے بادشاہ نے حضرت یوسف کی پاک باطنی کو دیکھ کر کہ باراں برس جیل خانہ منظور کیا مگر بدکاری کی درخواست کو نہ مانا ان کو صدیق کو خطاب دیا ۲۲۸ نفس کی تین قسمیں ہیں امارہ - لوامہ مطمئنہ -۔۲۲۹ امارہ مبالغہ کا صیغہ ہے امارہ کہتے ہیں بہت بدی کا حکم کرنے والا وو ۲۳۰ حضرت خاتم الانبیاء نے مکہ والوں پر بکلی فتح پاک سب کو لا تثريب عَلَيْدُ اليوم کہہ کر معاف کر دیا صفحہ ۳۹۷ ۳۹۸ ۴۰۴ ۴۰۵ ۴۱۰ ۲۱ حضرت یعقوب حضرت یوسف کے فراق میں چالیس سال تک روتے رہے ۴۰۸ ۲۲ تمام تر تلاش کے ایک ایسی حدیث مجھے نہ ملی جس میں توفی کے فعل کا خدا فاعل ہو اور مفعول بہ علم ہو اور اس جگہ بجز مارنے کے کوئی اور معنی ہوں ۲۳۳ قرآن ایسی کتاب نہیں کہ انسان اس کو بنا سکے بلکہ اس کے آثار صدق ظاہر ہیں ایسی اس بنا ۲۳۴ خدا سب کچھ پیدا کر کے پھر مخلوق کا عین نہیں ہے بلکہ سب سے الگ اور وراء الوراء مقام پر ہے ۲۳۵ جو شخص چاہتا ہے کہ آسمان میں اس کے لیے تبدیلی ہو اس کا پہلا فرض یہ ہے کہ وہ اپنے اندر تبدیلی کرے۔۲۳۶ خدا تعالیٰ کی خالقیت اور وحدانیت کی دلیل ۲۳۷ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو درازی عمر کا وعدہ فرمایا ہے جو دوسرے لوگوں ۲۳۸ کے لیے مفید ہیں جو شخص دنیا کے لیے نفع رساں ہو اس کی عمر دراز کی جاتی ہے۔اس پر جو یہ 을 ۴۱۱ ۴۱۳ ۴۱۶ ۴۱۷ ۴۲۱ ۴۲۱ اعتراض کیا جاتا ہے کہ رسول اللہ کی عمر چھوٹی تھی۔اس کا جواب