تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxvii of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page xxvii

صفحه ۳۹۷ ۳۹۸ لد ٧٠ لد ٢٠ لد ولد ۴۱۰ لدا ۴۱۳ ۴۱۶ ۴۱۷ ۴۲۱ ۴۲۱ xxvi رشمار مضمون ۲۲۷ مصر کے بادشاہ نے حضرت یوسف کی پاک باطنی کو دیکھ کر کہ باراں برس جیل خانہ منظور کیا مگر بدکاری کی درخواست کو نہ مانا ان کو صدیق کو خطاب دیا نفس کی تین قسمیں ہیں امارہ - لوامہ مطمئنہ ۲۲۸ ۲۲۹ ۲۳۰ ۲۳۱ ۲۳۲ امارہ مبالغہ کا صیغہ ہے امارہ کہتے ہیں بہت بدی کا حکم کرنے والا حضرت خاتم الانبیاء نے مکہ والوں پر بکلی فتح پا کر سب کو لا تثريب عَلَيْكُمُ اليَوْمَ کہہ کر معاف کر دیا حضرت یعقوب حضرت یوسف کے فراق میں چالیس سال تک روتے رہے تمام تر تلاش کے ایک ایسی حدیث مجھے نہ ملی جس میں توفی کے فعل کا خدا فاعل ہو اور مفعول به علم در مفعول بہ علم ہو اور اس جگہ بجز مارنے کے کوئی اور معنی ہوں ۲۳۳ قرآن ایسی کتاب نہیں کہ انسان اس کو بنا سکے بلکہ اس کے آثار صدق ظاہر ہیں خدا سب کچھ پیدا کر کے پھر مخلوق کا عین نہیں ہے بلکہ سب سے الگ اور ۲۳۴ وراء الوراء مقام پر ہے ۲۳۵ جو شخص چاہتا ہے کہ آسمان میں اس کے لیے تبدیلی ہو اس کا پہلا فرض یہ ہے کہ وہ اپنے اندر تبدیلی کرے۔ ۲۳۶ خدا تعالیٰ کی خالقیت اور وحدانیت کی دلیل ۲۳۷ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو درازی عمر کا وعدہ فرمایا ہے جو دوسرے لوگوں کے لیے مفید ہیں شي ۲۳۸ جو شخص دنیا کے لیے نفع رساں ہو اس کی عمر دراز کی جاتی ہے۔ اس پر جو یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ رسول اللہ کی عمر چھوٹی تھی ۔ اس کا جواب