تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 231
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۳۱ سورة الاعراف پر بدیہی طور پر ظاہر ہو گئے ہوں جس نبی سے ظہور میں آئے ہوں وہی نبی مثیل موسیٰ ہوگا اور وہ کام یہ ہیں (۱) اول یہ کہ موسیٰ نے اُس دشمن کو ہلاک کیا جو اُن کی اور اُن کی شریعت کی بیخ کنی کرنا چاہتا تھا (۲) دوسرے یہ کہ موسیٰ نے ایک نادان قوم کو جو خدا اور اس کی کتابوں سے ناواقف تھی اور وحشیوں کی طرح چار سو برس سے زندگی بسر کرتے تھے کتاب اور خدا کی شریعت دی یعنی تو ریت عنایت کی اور ان میں شریعت کی بنیاد ڈالی (۳) تیسرے یہ کہ بعد اس کے کہ وہ لوگ ذلت کی زندگی بسر کرتے تھے ان کو حکومت اور بادشاہت عنایت کی اور اُن میں سے بادشاہ بنائے۔ان تینوں انعامات کا قرآن شریف میں ذکر ہے۔جیسا کہ فرمایا: قَالَ عَسى رَبِّكُمْ أن يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِي الْأَرْضِ فَيَنظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ۔دیکھو سورۃ الاعراف الجزو نمبر 9۔دیکھوسورۃ ۹ اور پھر دوسری جگہ فرمایا: فَقَدْ آتَيْنَا آلَ إِبْراهِيمَ الْكِتَب وَالْحِكْمَةَ وَأَتَيْنَهُمْ مُلْكًا عَظِيمًا (النساء : ۵۵) - دیکھو سورۃ النساء الجز و نمبر ۵۔اب سوچ کر دیکھ لو کہ ان تینوں کاموں میں حضرت عیسی علیہ السلام کو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ایک ذرہ بھی مناسبت نہیں۔نہ وہ پیدا ہو کر یہودیوں کے دشمنوں کو ہلاک کر سکے اور نہ وہ اُن کے لئے کوئی نئی شریعت لائے اور نہ انہوں نے بنی اسرائیل یا اُن کے بھائیوں کو بادشاہت بخشی۔انجیل کیا تھی وہ صرف توریت کے چند احکام کا خلاصہ ہے جس سے پہلے یہود بے خبر نہیں تھے گو اس پر کار بند نہ تھے۔یہود گو حضرت مسیح کے وقت میں اکثر بدکار تھے مگر پھر بھی اُن کے ہاتھ میں توریت تھی۔پس انصاف ہمیں اس گواہی کے لئے مجبور کرتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کچھ مماثلت نہیں رکھتے۔اور یہ کہنا کہ جس طرح حضرت موسیٰ نے بنی اسرائیل کو فرعون کے ہاتھ سے نجات دی اسی طرح حضرت عیسی نے اپنے تابعین کو شیطان کے ہاتھ سے نجات دی یہ ایسا بیہودہ خیال ہے کہ کوئی شخص گو کیسا ہی اغماض کرنے والا ہو اس خیال پر اطلاع پا کر اپنے تئیں بننے سے روک نہیں سکے گا۔مخالف کے سامنے اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ عیسی نے ضرور اپنے پیروؤں کو شیطان سے اسی طرح نجات دے دی جیسا کہ موسیٰ نے بنی اسرائیل کو فرعون کے ہاتھ سے نجات دی۔موسیٰ کا بنی اسرائیل کو فرعون کے ہاتھ سے نجات دینا ایک تاریخی امر ہے جس سے نہ کوئی یہودی منکر ہوسکتا ہے نہ عیسائی نہ مسلمان نہ گبر نہ ہند و کیونکہ وہ دنیا کے واقعات میں سے ایک واقعہ مشہورہ ہے مگر عیسی کا اپنے تابعین کو شیطان کے ہاتھ سے نجات دنیا صرف اعتقادی امر ہے جو محض نصاریٰ کے خیالات میں ہے خارج میں اس کا کوئی وجود نہیں جس کو دیکھ کر ہر ایک شخص بدیہی طور پر قائل ہو سکے کہ ہاں یہ لوگ در حقیقت شیطان اور ہر ایک بدکاری سے نجات پاگئے ہیں اور ان کا