تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 225 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 225

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲۵ سورة الاعراف ہیں مرجاتے ہیں تو ہم ان میں زندگی کی روح ڈال دیتے ہیں۔(براہین احمدیہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۶۲۸ تا ۶۳۰ ) والبلدُ الطَّيِّبُ يَخْرُجُ نَبَاتُهُ بِإِذْنِ رَبِّهِ وَالَّذِى خَبُثَ لَا يَخْرُجُ إِلَّا نَكِدًا كَذلِكَ نُصَرِفُ الْأَيْتِ لِقَوْمٍ يَشْكُرُونَ۔(۵۹) اور جوز مین پاکیزہ ہے اس کی تو کھیتی اللہ کے اذن سے جیسی کہ چاہیے نکلتی ہے اور جو خراب زمین ہے اس کی صرف تھوڑی سی کھیتی نکلتی ہے اور عمدہ کھیتی نہیں نکلتی۔اسی طرح سے ہم پھیر پھیر کر بتاتے ہیں تا جوشکر کرنے سی اور والے ہیں شکر کریں۔( براہینِ احمدیہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۶۳۱،۶۳۰) یہ عام محاورہ قرآن شریف کا ہے کہ زمین کے لفظ سے انسانوں کے دل اور ان کی باطنی قومی مراد ہوتی (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه (۱۶۸) ہیں۔وَمِنْ عَلَامَاتِهِمُ أَنَّكَ تَرَاهُمْ في اور ان کی علامات میں سے یہ بھی ہے کہ تو انہیں اللہ سُبُلِ اللهِ مُسَارِعِيْنَ كَالنَّعْكَنَةِ تعالٰی کی راہوں پر ایک تیز رفتار اونٹنی کی مانند دوڑتا ہوا دیکھتا وَأَمَّا أُمُورُ الدُّنْيَا فَيَتَزَ خَنُونَ عَنْهَا ہے لیکن جہاں تک دنیاوی امور کا تعلق ہے وہ اس سے وَلَا يُؤْثِرُوْنَهَا إِلَّا بِالْكَرَاهَةِ، وَيُظهِرُ پرہیز کرتے ہیں اور انہیں ترجیح نہیں دیتے مگر حقارت الله بهم مَا صَلَحَ مِنْ أَخْلاقِ النَّاس کے ساتھ اور اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ لوگوں کے عمدہ اخلاق کو وَمَا كَانَ كَالدّاءِ اللَّفِينَ فَيُشَارِبُونَ ظاہر کرتا ہے اور ان کی اندرونی بیماری کو بھی ظاہر کرتا ہے اور مَطَرًا يُظْهِرُ خَوَاصَّ الْأَرْضِينَ وَ وہ ایک ایسی بارش کی مانند ہیں جو زمینوں کے خواص ظاہر البلد الطيب يَخْرُجُ نَبَاتُه بِاِذْنِ کرتی ہے اور پاکیزہ شہر کی نباتات اللہ کے اذن سے نکلتی رَبِّهِ وَالَّذِي خَبُثَ لَا يَخْرُجُ إِلا نَكِدا ہے اور وہ جو ناپاک ہے (اس کی نباتات ) ردی صورت كَذَلِكَ ضَرَبَ اللهُ مَقَلًا لِلْمُؤْمِنِينَ میں نکلتی ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے مومنوں اور فاسقوں وَالْفَاسِقِين۔(سيرة الابدال، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۱۳۱) کے لیے مثال بیان کی ہے۔( ترجمہ از مرتب ) قرآن شریف نے انبیاء ورسل کی بعث کی مثال مینہ سے دی ہے : وَ الْبَلدُ الطَّيِّبُ يَخْرُجُ نَبَاتُه