تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 224 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 224

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲۴ سورة الاعراف جب خدائے تعالی کسی چیز کو اس طور سے پیدا کرے کہ پہلے اس چیز کا کچھ بھی وجود نہ ہو تو ایسے پیدا کرنے کا نام اصطلاح قرآنی میں امر ہے اور اگر ایسے طور سے کسی چیز کو پیدا کرے کہ پہلے وہ چیز کسی اور صورت میں اپنا وجود رکھتی ہو تو اس طرز پیدائش کا نام خلق ہے خلاصہ کلام یہ کہ بسیط چیز کا عدم محض سے پیدا کرنا عالم امر میں سے ہے اور مرکب چیز کو کسی شکل یا ہیئت خاص سے متشکل کرنا عالم خلق سے ہے جیسے اللہ تعالیٰ دوسرے مقام میں قرآن شریف میں فرماتا ہے : اَلا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ یعنی بسائط کا عدم محض سے پیدا کرنا اور مرکبات کو ظہور خاص میں لانا دونوں خدا کا فعل ہیں اور بسیط اور مرکب دونوں خدائے تعالیٰ کی پیدائش ہے۔۔۔یہ کسی اعلیٰ اور عمدہ صداقت ہے جس کو ایک مختصر آیت اور چند معد و دلفظوں میں خدائے تعالیٰ سرمه چشم آرمیه، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۱۷۶،۱۷۵) نے ادا کر دیا۔وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا وَادْعُوهُ خَوْفًا وَطَمَعًا إِنَّ رَحْمَتَ اللَّهِ قَرِيبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِينَ۔اِنَّ رَحْمَتَ اللهِ قَرِيبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِینَ یعنی رحیمیت الہی انہیں لوگوں سے قریب ہے جو نیکو کار ہیں۔( براہینِ احمدیہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۴۵۱ حاشیہ نمبر ۱۱) وَهُوَ الَّذِي يُرْسِلُ الرِيحَ بُشْراً بَيْنَ يَدَى رَحْمَتِهِ حَتَّى إِذَا أَفَلَتْ سَحَابًا ثِقَالًا سُقْنهُ لِبَلَدٍ مَّيّتٍ فَاَنْزَلْنَا بِهِ الْمَاءَ فَاخْرَجْنَا بِهِ مِنْ كُلِ الثَّمَرَاتِ كَذلِكَ نُخْرِجُ الْمَوْتَى لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ۔(۵۸) خدائے تعالیٰ وہ ذات کریم و رحیم ہے جس کا قدیم سے یہ قانونِ قدرت ہے کہ وہ ہواؤں کو اپنی رحمت سے پہلے یعنی بارش سے پہلے چلاتا ہے یہاں تک کہ جب ہوائیں بھاری بدلیوں کو اٹھا لاتی ہیں تو ہم کسی مردہ شہر کی طرف یعنی جس ضلع میں بباعث امساک باراں زمین مردہ کی طرح خشک ہو گئی ہو، ان ہواؤں کو ہانک دیتے ہیں پھر اس سے پانی اتارتے ہیں اور اس کے ذریعہ سے قسم قسم کے میوے پیدا کر دیتے ہیں۔اسی طرح روحانی مردوں کو موت کے گڑھے سے نکالا کرتے ہیں اور یہ مثال اس لیے بیان کی گئی تا کہ تم دھیان کرو اور اس بات کو سمجھ جاؤ کہ جیسا کہ ہم امساک باراں کی شدت کے وقت مردہ زمین کو زندہ کر دیا کرتے ہیں ایسا ہی ہمارا قاعدہ ہے کہ جب سخت درجہ پر گمراہی پھیل جاتی ہے اور دل جو زمین سے مشابہ