تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 223
تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۲۲۳ سورة الاعراف ہے اور وہ کوئی مادی اور جسمانی شے نہیں ہے ورنہ زمین و آسمان وغیرہ کی طرح عرش کی پیدائش کا ذکر بھی ہوتا۔اس لیے شبہ گزرتا ہے کہ ہے تو شے مگر غیر مخلوق اور یہاں سے دھو کہ کھا کر آریوں کی طرف انسان چلا جاتا ہے کہ جیسے وہ خدا کے وجود کے علاوہ اور اشیاء کو غیر مخلوق مانتے ہیں۔ویسے ہی یہ عرش کو ایک شے غیر مخلوق جزاز خدا ماننے لگتا ہے یہ گمراہی ہے اصل میں یہ کوئی شے خدا کے وجود سے باہر نہیں ہے۔جنہوں نے اسے ایک شے غیر مخلوق قرار دیا وہ اسے اتم اور اکمل نہیں مانتے اور جنہوں نے مادی مانا وہ گمراہی پر ہیں کہ خدا کو ایک مجسم شے کا محتاج مانتے ہیں کہ ایک ڈولہ کی طرح فرشتوں نے اسے اُٹھایا ہوا ہے لا یودُهُ حِفْظُهُمَا ( البقرة : ۲۵۲) - چار ملائک کا عرش کو اُٹھانا یہ بھی ایک استعارہ ہے رب، رحمان رحیم اور مالک یوم الدین یہ صفات الہی کے مظہر ہیں اور اصل میں ملائکہ ہیں اور یہی صفات جب زیادہ جوش سے کام میں ہوں گے تو ان کو ( آٹھ ) ملائک سے تعبیر کیا گیا ہے جو شخص اسے بیان نہ کر سکے وہ یہ کہے کہ یہ ایک مجہول الکنہ حقیقت ہے ہمارا اس پر ایمان ہے اور حقیقت خدا کے سپرد کرے اطاعت کا طریق یہی ہے کہ خدا کی باتیں خدا کے سپرد کرے اور ان پر ایمان رکھے اور اس کی اصل حقیقت یہی ہے کہ خدا کی تجلیات ثلثہ کی طرف اشارہ ہے۔كَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ (هود : ۸) یہ بھی ایک تجلی تھی اور ماء کے معنے یہاں پانی بھی نہیں کر سکتے۔خدا معلوم کہ اس کے نزدیک ماء کے کیا معنی ہیں۔اس کی کنہ خدا کو معلوم ہے۔البدر جلد ۲ نمبر ۵ مورخه ۲۰ فروری ۱۹۰۳ء صفحه ۳۸،۳۷) مسلمانوں کا یہ عقیدہ نہیں ہے کہ عرش کوئی جسمانی اور مخلوق چیز ہے جس پر خدا بیٹھا ہوا ہے۔تمام قرآن شریف کو اول سے آخر تک پڑھو اس میں ہر گز نہیں پاؤ گے کہ عرش بھی کوئی چیز محدود اور مخلوق ہے خدا نے بار بار قرآن شریف میں فرمایا ہے کہ ہر ایک چیز جو کوئی وجود رکھتی ہے اس کا میں ہی پیدا کرنے والا ہوں۔میں ہی زمین ، آسمان اور روحوں اور ان کی تمام قوتوں کا خالق ہوں۔میں اپنی ذات میں آپ قائم ہوں اور ہر ایک چیز میرے ساتھ قائم ہے۔ہر ایک ذرہ اور ہر ایک چیز جو موجود ہے وہ میری ہی پیدائش ہے مگر کہیں نہیں فرمایا کہ عرش بھی کوئی جسمانی چیز ہے جس کا میں پیدا کرنے والا ہوں۔اگر کوئی آریہ قرآن شریف میں سے نکال دے کہ عرش کوئی جسمانی اور مخلوق چیز ہے تو میں اس کو قبل اس کے جو قادیان سے باہر جائے ایک ہزار روپیہ انعام دوں گا۔میں اس خدا کی قسم کھاتا ہوں جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتی کا کام ہے کہ میں قرآن شریف کی وہ آیت دکھاتے ہی ہزار روپیہ حوالہ کروں گا۔ورنہ میں بادب کہتا ہوں کہ ایسا شخص خود لعنت کا محل ہو گا جو خدا پر جھوٹ بولتا ہے۔(نسیم دعوت، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۴۵۳، ۴۵۴)