تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 222 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 222

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲۲ سورة الاعراف کہ ان کا خدا چھ سات ہزار برس سے چلا آتا ہے یہ ان کی غلطی ہے اس مخلوق کو دیکھ کر خدا کی عمر کا اندازہ کرنا نادانی ہے ہمیں اس بات کا علم نہیں ہے کہ آدم سے اول کیا تھا اور کس قسم کی مخلوق تھی۔اس وقت کی بات وہی جانے كُلّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ (الرحمن) :۳۰) وہ اور اس کی صفات قدیم ہی سے ہیں مگر اس پر یہ لازم نہیں ہے کہ ہر ایک صفت کا علم ہم کو دے دیوے اور نہ اس کے کام اس دنیا میں سما سکتے ہیں خدا کے کلام میں دقیق نظر کرنے سے پتہ لگتا ہے کہ وہ ازلی اور ابدی ہے اور مخلوقات کی ترتیب اس کے ازلی ہونے کی مخالف نہیں ہے اور استعارات کو ظاہر پر حمل کر کے مشہورات پر لانا بھی ایک نادانی ہے۔اس کی صفت ہے لا تدركهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الأَبْصَارَ (الانعام : ۱۰۴)۔ہم عرش اور استوئی پر ایمان لاتے ہیں اور اس کی حقیقت اور کنہ کو خدا تعالیٰ کے حوالہ کرتے ہیں۔جب دنیا وغیرہ نہ تھی عرش تب بھی تھا جیسے لکھا ہے۔گان عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ (هود : ۸)۔اس کے متعلق خوب سمجھ لینا چاہیے کہ یہ ایک مجہول الکنہ امر ہے اور خدا تعالیٰ کی تجلیات کی طرف اشارہ ہے وہ خَلْقُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ (الروم : ۲۳) چاہتی تھی اس لیے اول وہ ہو کر ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ ہوا۔اگر چہ توریت میں بھی اس کی طرف اشارہ ہے مگر وہ اچھے الفاظ میں نہیں ہے اور لکھا ہے کہ خدا۔۔۔۔ماندہ ہو کر تھک گیا۔اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک انسان کسی کام میں مصروف ہوتا ہے تو اس کے چہرہ اور خد و خال وغیرہ اور دیگر اعضاءکا پورا پورا پتہ نہیں لگتا مگر جب وہ فارغ ہو کر ایک تخت یا چار پائی پر آرام کی حالت میں ہو تو اس کے ہر ایک عضو کو بخوبی دیکھ سکتے ہیں۔اسی طرح استعارہ کے طور پر خدا کی صفات کے ظہور کو تھ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ سے بیان کیا ہے کہ آسمان اور زمین کے پیدا کرنے کے بعد صفات الہیہ کا ظہور ہوا صفات اس کے ازلی ابدی ہیں مگر جب مخلوق ہو تو خالق کو شناخت کرے اور محتاج ہوں تو رازق کو پہچانیں۔اسی طرح اس کے علم اور قادر مطلق ہونے کا پتہ لگتا ہے : ثم استوى على العرش خدا کی اس تجلی کی طرف اشارہ ہے جو خَلْقُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ (الروم : ۲۳) کے بعد ہوئی۔اسی طرح اس تجلی کے بعد ایک اور تجلی ہوگی جب کہ ہر شے فنا ہوگی پھر ایک اور تیسری تجلی ہوگی کہ احیاء اموات ہوگا۔غرضیکہ یہ ایک لطیف استعارہ ہے جس کے اندر داخل ہونا روا نہیں ہے، صرف ایک تجلی سے اسے تعبیر کر سکتے ہیں۔قرآن شریف سے پتہ لگتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے عرش کو اپنی صفات میں داخل کیا ہے جیسے ذُو الْعَرْشِ الْمَجِيد ( البروج : ۱۲ )۔گویا خدا تعالیٰ کے کمال علو کو دوسرے معنوں میں عرش سے بیان کیا