تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 214 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 214

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۲۱۴ سورة الاعراف فرماتا ہے: اِنَّ رَبَّكُمُ اللهُ الَّذِى خَلَقَ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ - ( ترجمہ ) تمہارا پروردگار وہ خدا ہے جس نے زمین و آسمان کو چھ دن میں پیدا کیا پھر اُس نے عرش پر قرار پکڑا یعنی اُس نے زمین و آسمان اور جو کچھ اُن میں ہے پیدا کر کے اور نشیبی صفات کا ظہور فرما کر پھر تنزیہی صفات کے ثابت کرنے کے لئے مقام تنزہ اور تجرد کی طرف رُخ کیا جو وراء الوراء مقام اور مخلوق کے قرب وجوار سے دور تر ہے وہی بلند تر مقام ہے جس کو عرش کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔تشریح اس کی یہ ہے کہ پہلے تو تمام مخلوق حيّز عدم میں تھی اور خدا تعالی وراء الوراء مقام میں اپنی تجلیات ظاہر کر رہا تھا جس کا نام عرش ہے یعنی وہ مقام جو ہر ایک عالم سے بلند تر اور برتر ہے اور اسی کا ظہور اور پر تو تھا اور اُس کی ذات کے سوا کچھ نہ تھا۔پھر اُس نے زمین و آسمان اور جو کچھ اُن میں ہے پیدا کیا اور جب مخلوق ظاہر ہوئی تو پھر اُس نے اپنے تئیں مخفی کر لیا اور چاہا کہ وہ ان مصنوعات کے ذریعہ سے شناخت کیا جائے۔مگر یہ بات یادرکھنے کے لائق ہے کہ دائمی طور پر تعطل صفات الہیہ کبھی نہیں ہوتا اور بجز خدا کے کسی چیز کے لئے قدامت شخصی تو نہیں مگر قدامت نوعی ضروری ہے اور خدا کی کسی صفت کے لئے تعطل دائمی تو نہیں مگر تعطل میعادی کا ہونا ضروری ہے اور چونکہ صفت ایجاد اور صفت افتاء باہم متضاد ہیں اس لئے جب افتاء کی صفت کا ایک کامل دور آجاتا ہے تو صفت ایجاد ایک میعاد تک معطل رہتی ہے۔غرض ابتدا میں خدا کی صفتِ وحدت کا دور تھا اور ہم نہیں کہہ سکتے کہ اس دور نے کتنی دفعہ ظہور کیا بلکہ یہ دور قدیم اور غیر متناہی ہے بہر حال صفت وحدت کے دور کو دوسری صفات پر تقدم زمانی ہے پس اسی بنا پر کہا جاتا ہے کہ ابتدا میں خدا اکیلا تھا اور اُس کے ساتھ کوئی نہ تھا اور پھر خدا نے زمین و آسمان کو اور جو کچھ اُن میں ہے پیدا کیا اور اسی تعلق کی وجہ سے اُس نے اپنے یہ اسماء ظاہر کئے کہ وہ کریم اور رحیم ہے اور غفور اور تو بہ قبول کرنے والا ہے مگر جو شخص گناہ پر اصرار کرے اور باز نہ آوے اُس کو وہ بے سزا نہیں چھوڑتا اور اُس نے اپنا یہ اسم بھی ظاہر کیا کہ وہ تو بہ کرنے والوں سے پیار کرتا ہے اور اُس کا غضب صرف انہیں لوگوں پر بھڑکتا ہے جو ظلم اور شرارت اور معصیت سے باز نہیں آتے اور اُس نے اپنی یہ صفات اپنی کتاب میں بیان فرمائیں کہ وہ دیکھتا ہے اور سنتا ہے اور محبت کرتا ہے اور غضب کرتا ہے اور اپنے ہاتھ اور پیر اور آنکھ اور کان کا بھی ذکر کیا مگر ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ اُس کا دیکھنا انسان کے دیکھنے کی طرح نہیں اور اُس کا سننا انسان کے سننے کی طرح نہیں اور اس کا محبت کرنا انسان کے محبت کرنے کی طرح نہیں اور اُس کا غضب انسان کے غضب کی طرح نہیں اور اُس کے ہاتھ ، پیر اور آنکھ ، کان مخلوق کے اعضاء کی طرح نہیں بلکہ