تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 215
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۱۵ سورة الاعراف وہ ہر ایک بات میں بے مثل ہے اور بار بارصاف فرما دیا کہ یہ اُس کی تمام صفات اُس کی ذات کے مناسب حال ہیں انسان کی صفات کی مانند نہیں اور اُس کی آنکھ وغیرہ جسم اور جسمانی نہیں اور اُس کی کسی صفت کو انسان کی کسی صفت سے مشابہت نہیں مثلاً انسان اپنے غضب کے وقت پہلے غضب کی تکلیف آپ اُٹھاتا ہے اور جوش و غضب میں فوراً اُس کا سرور دور ہو کر ایک جلن سی اُس کے دل میں پیدا ہو جاتی ہے اور ایک مادہ سوداوی اُس کے دماغ میں چڑھ جاتا ہے اور ایک تغیر اس کی حالت میں پیدا ہو جاتا ہے مگر خدا ان تغییرات سے پاک ہے اور اُس کا غضب ان معنوں سے ہے کہ وہ اس شخص سے جو شرارت سے باز نہ آوے اپنا سایہ حمایت اٹھا لیتا ہے اور اپنے قدیم قانون قدرت کے موافق اُس سے ایسا معاملہ کرتا ہے جیسا کہ ایک غضبناک انسان کرتا ہے لہذا استعارہ کے رنگ میں وہ معاملہ اُس کا غضب کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ایسا ہی اُس کی محبت انسان کی محبت کی طرح نہیں کیونکہ انسان غلبہ محبت میں بھی دکھ اٹھاتا ہے اور محبوب کے علیحدہ اور جدا ہونے سے اُس کی جان کو تکلیف پہنچتی ہے مگر خدا ان تکالیف سے پاک ہے ایسا ہی اُس کا قرب بھی انسان کے قرب کی طرح نہیں کیونکہ انسان جب ایک کے قریب ہوتا ہے تو اپنے پہلے مرکز کو چھوڑ دیتا ہے مگر وہ باوجود قریب ہونے کے دور ہوتا ہے اور باوجود دور ہونے کے قریب ہوتا ہے۔غرض خدا تعالیٰ کی ہر ایک صفت انسانی صفات سے الگ ہے اور صرف اشتراک لفظی ہے اس سے زیادہ نہیں اسی لئے خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ: لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَى (الشوری:۱۲) یعنی کوئی چیز اپنی ذات یا صفات میں خدا تعالی کے برابر نہیں۔اب ناظرین با انصاف پر ظاہر ہو کہ اسی مطلب کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے کہ اللهُ الَّذِی خَلَقَ السَّمُوتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ یعنی خدا وہ ہے جس نے سب کچھ چھ دن میں پیدا کر کے پھر اپنے مقام وراء الوراء کی طرف توجہ کی اور عرش پر قرار پکڑا۔ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ عرش سے مراد قرآن شریف میں وہ مقام ہے جو شیبہی مرتبہ سے بالا تر اور ہر ایک عالم سے برتر اور نہاں در نہاں اور نقدس اور تنزہ کا مقام ہے وہ کوئی ایسی جگہ نہیں کہ پتھر یا اینٹ یا کسی اور چیز سے بنائی گئی ہو اور خدا اُس پر بیٹھا ہوا ہے اسی لئے عرش کو غیر مخلوق کہتے ہیں اور خدا تعالیٰ جیسا کہ یہ فرماتا ہے کہ بھی وہ مومن کے دل پر اپنی تجلی کرتا ہے۔ایسا ہی وہ فرماتا ہے کہ عرش پر اُس کی تجلی ہوتی ہے اور صاف طور پر فرماتا ہے کہ ہر ایک چیز کو میں نے اٹھایا ہوا ہے یہ کہیں نہیں کہا کہ کسی چیز نے مجھے بھی اُٹھایا ہوا ہے۔اور عرش جو ہر ایک عالم سے برتر مقام ہے وہ اُس کی تنزیہی صفت کا مظہر ہے اور ہم بار بار لکھ چکے ہیں کہ ازل سے اور قدیم سے خدا میں دو صفتیں