تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 209 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 209

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۰۹ سورة الاعراف سب حمدیں اس خدا وند تعالیٰ کے لیے جس نے ہم کو دار السلام کی ہدایت کی اور ہم کیا چیز تھے جو خود بخود یہاں تک پہنچتے اگر وہ ہدایت نہ دیتا۔الحکم جلد ۶ نمبر ۴۶ مورخه ۲۴ دسمبر ۱۹۰۲، صفحه ۵) وَ لَقَدْ جِثْنَهُمْ بِكِتَب فَضَّلْنَهُ عَلَى عِلْمٍ هُدًى وَرَحْمَةٌ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ وہ ( قرآن کریم ) مفصل کتاب ہے۔۔۔۔یہ عظمتیں اور خوبیاں کہ جو قرآن کریم کی نسبت بیان فرمائی گئیں احادیث کی نسبت ایسی تعریفوں کا کہاں ذکر ہے؟ پس میرا مذہب فرقہ ضالہ نیچریہ کی طرح یہ نہیں ہے کہ میں عقل کو مقدم رکھ کر قال اللہ اور قال الرسول پر کچھ نکتہ چینی کروں۔ایسے نکتہ چینی کرنے والوں کوملحد اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔بلکہ میں جو کچھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا تعالیٰ کی طرف سے ہم کو پہنچایا ہے اس سب پر ایمان لاتا ہوں۔صرف عاجزی اور انکسار کے ساتھ یہ کہتا ہوں کہ قرآن کریم ہر یک وجہ سے احادیث پر مقدم ہے اور احادیث کی صحت و عدم صحت پر کھنے کے لیے وہ محک ہے اور مجھ کو خدا تعالیٰ نے قرآن کریم کی اشاعت کے لیے مامور کیا ہے تا میں جو ٹھیک ٹھیک منشا قرآن کریم کا ہے لوگوں پر ظاہر کروں۔الحق مباحثہ لدھیانه، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۳۰ حاشیه ) اِنَّ رَبَّكُمُ اللهُ الَّذِى خَلَقَ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ يُغْشِي اليْلَ النَّهَارِ يَطْلُبُهُ حَثِيئًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَ النُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ قف بِأَمرِه أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ تَبَرَكَ اللهُ رَبُّ الْعَلَمِينَ۔(۵۵) قرآن شریف میں لفظ عرش کا جہاں جہاں استعمال ہوا ہے اس سے مراد خدا کی عظمت اور جبروت اور بلندی ہے۔اسی وجہ سے اس کو مخلوق چیزوں میں داخل نہیں کیا اور خدا تعالیٰ کی عظمت اور جبروت کے مظہر چار ہیں جو وید کے رُو سے چار دیوتے کہلاتے ہیں مگر قرآنی اصطلاح کی رُو سے ان کا نام فرشتے بھی ہے اور وہ یہ ہیں ؛ اکاش جس کا نام اندر بھی ہے۔سورج دیوتا جس کو عربی میں شمس کہتے ہیں۔چاند جس کو عربی میں قمر کہتے ہیں۔دھرتی جس کو عربی میں ارض کہتے ہیں۔یہ چاروں دیوتا جیسا کہ ہم اس رسالہ میں بیان کر چکے ہیں خدا کی چار صفتوں کو جو اس کے جبروت اور عظمت کا اتم مظہر ہیں جن کو دوسرے لفظوں میں عرش کہا جاتا ہے اٹھارہے ہیں یعنی عالم پر یہ ظاہر کر رہے ہیں تصریح کی حاجت نہیں۔اس بیان کو ہم مفصل لکھ آئے ہیں اور