تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 208 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 208

۲۰۸ سورة الاعراف تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اتری تھی نہ علی پر اور نہ کسی اور پر۔اگر کہو کہ اس وقت ہی خالی تھا تو معلوم ہوتا ہے کہ نعوذ باللہ ! صحابہ ایسے سخت دل تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار کہا اور سمجھایا مگر کسی نے آپ کا کہنا نہ مانا۔یہ کیونکر ہوسکتا ہے۔یہ تو بڑی بے ادبی ہے۔اس کا پتہ لگتا ہے کہ یہ بعد کی خبر ہے مگر خدا کے سامنے یہ کوئی شے نہیں اسی لیے فرماتا ہے کہ تم اس پر خیال نہ کرو یہ بشریت کے اختلاف ہیں ہم ان کو بھائی بھائی بنا دیویں گے۔خدا تعالیٰ ہی نے یہ پیشگوئی کی کہ ایسا ہو گا بعض آپس میں لڑیں گے۔(البدر جلد نمبر ۲ مورخہ ۷ رنومبر ۱۹۰۲ صفحه ۱۵) وَقَدْ جَرَتْ سُنّتُه أَنَّهُ يَقْضِى اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ وہ صالحین کے درمیان ایسے بَيْنَ الصَّالِحِينَ عَلى طَرِيقٍ لَّا يَقْضِی طریق پر فیصلہ کرتا ہے کہ وہ فاسقوں کے معاملات کا اس طریق عَلَيْهِ قَضَايَا الْفَاسِقِينَ فَإِنَّهُمْ پر فیصلہ نہیں فرماتا۔کیونکہ وہ (صحابہ۔ناقل ) سب کے كُلُّهُمْ أَحِبَّاؤُه وَكُلُّهُمْ مِنَ الْمُجِبْيْنَ سب اس کے دوست۔اس کے محب اور اس کے مقبول ہیں اور الْمَقْبُوْلِينَ، وَلِأَجْلِ ذلِكَ أَخْبَرَنَا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان کے جھگڑوں کے انجام سے رَبُّنَا عَنْ مَآلِ نِزَاعِهِمْ وَقَالَ وَهُوَ اطلاع دی اور اس نے جو اصدق الصادقین ہے فرمایا: وَ نَزَعُنا أَصْدَقُ الْقَائِلِينَ نَزَعْنَا مَا فِي مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلْ إِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍ مُّتَقْبِلِينَ اور صُدُورِهِمْ مِنْ غِلِ اِخْوَانًا عَلى سُرُرٍ ہم ان کے دلوں سے جو بھی کیئے ہیں نکال باہر کریں گے۔متَقْبِلِينَ هَذَا هُوَ الْأَصْلُ الصَّحِيحُ بھائی بھائی بنتے ہوئے تختوں پر آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے اور یہی صحیح اصل اور حق صریح ہے۔(ترجمہ از مرتب ) والحق الطريح وقف ( سر الخلافة ، روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۳۴۷، ۳۴۸) اَلْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِى هَدْنَا لِهَذَا وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِى لَوْ لا أن هدانا الله سب تعریفیں خدا کو ہیں جس نے جنت کی طرف ہم کو آپ راہبری کی اور ہم کیا چیز تھے کہ خود بخود منزل مقصود تک پہنچ جاتے اگر خدا ر ہبری برائین احمد یہ چہار تحصص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۱۶۹ حاشیہ نمبر ۱۱) الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدْنَا لِهَذَا وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِى لَوْ لَا أَن هَذينا الله - یعنی سب تعریف اس خدا کو جس نے ہمیں بہشت میں داخل ہونے کے لیے آپ ہی سب توفیق بخشی ، آپ ہی ایمان بخشا، آپ ہی نیک نہ کرتا۔عمل کرائے ، آپ بھی ہمارے دلوں کو پاک کیا اگر وہ خود مدد نہ کرتا تو ہم آپ تو کچھ بھی چیز نہ تھے۔ست بچن، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲۱۱، ۲۱۲) الحجر ۴۸: