تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 207 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 207

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۰۷ سورة الاعراف دوسری شیطان کی اور وہ بہت نیچی ہے اور اس کا انتہاز مین کا پاتال ہے غرض یہ تینوں شریعتوں کا متفق علیہ مسئلہ ہے کہ مومن مرکز خدا کی طرف جاتا ہے اور اس کے لیے آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں جیسا کہ آیت : ارجعي إلى ربك (الفجر : ۲۹) اس کی شاہد ہے اور کا فرنیچے کی طرف جو شیطان کی طرف ہے جاتا ہے جیسا کہ آیت: وَلَا تُفَتَّحُ لَهُمْ اَبْوَابُ السَّمَاو اس کی گواہ ہے خدا کی طرف جانے کا نام رفع ہے اور شیطان کی طرف جانے کا نام لعنت ہے۔ان دونوں لفظوں میں تقابل اضداد ہے۔نادان لوگ اس حقیقت کو نہیں سمجھے۔یہ بھی نہیں سوچا کہ اگر رفع کے معنی مع جسم اُٹھانا ہے تو اس کے مقابل کا لفظ کیا ہوا جیسا کہ رفع روحانی کے مقابل پر لعنت ہے۔(تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ا صفحہ ۱۰۹،۱۰۸) ج وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلْ تَجْرِى مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهرُ وَقَالُوا الْحَمْدُ للهِ الَّذِى هَدينَا لِهذَا وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِى لَوْ لَا أَن هَدينَا اللهُ لَقَدْ جَاءَتْ رُسُلُ رَبَّنَا بِالْحَقِّ وَنُودُوا أَن تِلْكُمُ الْجَنَّةُ أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ۔یہ تو شیعوں کا مذہب ہے کہ صحابہ کے درمیان آپس میں ایسی سخت دشمنی تھی ، یہ غلط ہے۔اللہ تعالیٰ آپ اس کی تردید میں فرماتا ہے کہ : نَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِل - برادریوں کے درمیان آپس میں دشمنیاں ہوا کرتی ہیں۔مگر شادی ، مرگ کے وقت وہ سب ایک ہو جاتے ہیں۔اختیار میں خونی دشمنی کبھی نہیں ہوتی۔الحکم جلد ۵ نمبر ۱۰ مورخه ۷ ار مارچ ۱۹۰۱ صفحه ۸) اس طرح آزمائش کرو کہ خدا اور سول کی راہ میں کس نے صدق دکھلایا، آپس کی رنجشیں خانگی امور ہوتے ہیں ان کا اثر ان (صحابہ) پر نہیں پڑسکتا۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے: وَ نَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلَ إِخْوَانًا عَلى سُرُرٍ تَقْبِلِينَ ( الحجر : ۴۸)۔یہ ایک پیشگوئی ہے کہ آئندہ زمانہ میں آپس میں رنجشیں ہوں گی لیکن غلی ان کے سینوں میں سے بھینچ لیویں گے ، وہ بھائی ہوں گے تختوں پر بیٹھنے والے۔اب شیعوں سے پوچھو کہ اس وقت زمانہ نبوی میں تو کوئی رنجش نہ تھی اور اگر ہوتی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت آپس میں صلح کروا دیتے۔آخر یہ بات آئندہ زمانہ میں ہونے والی تھی ورنہ اس طرح پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر حرف آتا ہے کہ انہوں نے صلح کی کوشش تو کی مگر کامیاب نہ ہوئے۔یہ بات شیعہ پر بڑی دلیل ہے وہ صرف دو آدمیوں کا نام لیتے ہیں جو کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) کے بعد ہوئے ہم کہتے کہ آیت تو پیغمبر خدا پر