تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 205 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 205

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۰۵ سورة الاعراف پر افترا کرنے والا دوسرا خدا کی کلام کی تکذیب کرنے والا۔پس جبکہ میں نے ایک مکذب کے نزدیک خدا پر افتر کی کیا ہے اس صورت میں نہ صرف میں کا فر بلکہ بڑا کا فر ہوا اور اگر میں مفتری نہیں تو بلا شبہ وہ کفر اس پر پڑے گا۔(حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۶۷ حاشیه ) ظالم سے مراد اس جگہ کا فر ہے اس پر قرینہ یہ ہے کہ مفتری کے مقابل پر مکذب کتاب اللہ کو ظالم ٹھہرایا ہے اور بلاشبہ وہ شخص جو خدا تعالیٰ کے کلام کی تکذیب کرتا ہے کافر ہے سو جو شخص مجھے نہیں مانتا وہ مجھے مفتری قرار دے کر مجھے کا فرٹھہراتا ہے اس لیے میری تکفیر کی وجہ سے آپ کا فر بنتا ہے۔(حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۶۷ حاشیه ) اِنَّ الَّذِينَ كَذَبُوا بِأَيْتِنَا وَاسْتَكْبَرُوا عَنْهَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَلَا يدخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ وَ كَذَلِكَ نَجْزِى المُجْرِمِينَ ایک اور طرح آنا جانا روحوں کا قرآن شریف سے ثابت ہوتا ہے اور وہ یہ کہ بدکاروں کی روحوں کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھلتے اور پھر وہ زمین کی طرف رد کیے جاتے ہیں۔قال اللہ تعالی وَلَا تُفَتَّحُ لَهُمْ ست بچن ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲۰۸ حاشیه ) ابْوَابُ السَّمَاء - تمام مومنوں اور رسولوں اور نبیوں کا مرنے کے بعد رفع روحانی ہوتا ہے اور کافر کا رفع روحانی نہیں ہوتا چنانچہ آیت : لَا تُفَتَّحُ لَهُمُ ابْوَابُ السَّمَاءِ کا اسی طرف اشارہ ہے۔(کتاب البریہ، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۲۳۷ حاشیه ) کافر کے لیے حکم ہے کہ لا تُفَتَّحُ لَهُمْ اَبْوَابُ السَّمَاءِ یعنی ان کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے یعنی ان کا رفع نہیں ہو گا۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۵۵) یہودیوں کا ہرگز یہ اعتقاد نہیں کہ جو شخص مع جسم عصری آسمان پر نہ جاوے وہ مومن نہیں بلکہ وہ تو آج تک اسی بات پر زور دیتے ہیں کہ جس کا رفع روحانی نہ ہو اور اس کے لیے آسمان کے دروازے نہ کھولے جائیں وہ مومن نہیں ہوتا۔جیسا کہ قرآن شریف بھی فرماتا ہے: وَلَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ یعنی کافروں کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۴۰)