تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 199 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 199

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹۹ سورة الاعراف فَزَوْجَهُمَا حِكْمَةٌ مِنْ عِنْدِهِ وَكَانَ الله اپنی حکمت کے تحت جوڑ دیا ہے اور اللہ تعالیٰ خوب جاننے عَلِيمًا حَكِيمًا۔(حمامة البشرى ، روحانی خزائن جلد۷ صفحه ۲۸۹) والا اور حکمت والا ہے۔( ترجمہ از مرتب ) نزول سے مراد عزت وجلال کا اظہار ہوتا ہے۔الحام جلد ۵ نمبر ۶ مورخہ ۷ ارفروری ۱۹۰۱ صفحہ ۷ ) خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں تقویٰ کو لباس کے نام سے موسوم کیا ہے چنانچہ لباس التقویٰ قرآن شریف کا لفظ ہے۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ روحانی خوبصورتی اور روحانی زینت تقویٰ سے ہی پیدا ہوتی ہے اور تقویٰ یہ ہے کہ انسان خدا کی تمام امانتوں اور ایمانی عہد اور ایسا ہی مخلوق کی تمام امانتوں اور عہد کی حتی الوسع رعایت رکھے یعنی ان کے دقیق در دقیقی پہلوؤں پر تا بمقدور کار بند ہو جائے۔(براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۲۱۰) تقومی ہی ایک ایسی چیز ہے جس کو شریعت کا خلاصہ کہہ سکتے ہیں اور اگر شریعت کو مختصر طور پر بیان کرنا چاہیں تو مغز شریعت تقویٰ ہی ہو سکتا ہے۔تقویٰ کے مدارج اور مراتب بہت ہیں لیکن اگر طالب صادق ہوکر ابتدائی مراتب اور مراحل کو استقلال اور خلوص سے طے کرے تو وہ اس راستی اور طلب صدق کی وجہ سے اعلیٰ مدارج کو پالیتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ ( المائدة : ۲۸ )۔۔۔۔۔ہماری جماعت کو لازم ہے کہ جہاں تک ممکن ہو ہرا یک ان میں سے تقومی کی راہوں پر قدم مارے تا کہ قبولیت دعا کا سرور اور حظ حاصل کرے اور زیادتی ایمان کا حصہ لے۔رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۱۳۳) تقوی خلاصہ ہے تمام صحف مقدسہ اور توریت و انجیل کی تعلیمات کا۔قرآن کریم نے ایک ہی لفظ میں خدا تعالیٰ کی عظیم الشان مرضی اور پوری رضا کا اظہار کر دیا ہے۔الحکم جلد ۳ نمبر ۲۲ مورخه ۲۳/ جون ۱۸۹۹ءصفحہ ۷ ) تقویٰ ایک تریاق ہے جو اسے استعمال کرتا ہے تمام زہروں سے نجات پاتا ہے مگر تقوی کامل ہونا چاہیے۔تقویٰ کی کسی شاخ پر عمل پیرا ہونا ایسا ہے جیسے کسی کو بھوک لگی ہو اور وہ دانہ کھالے۔ظاہر ہے کہ اس کا کھانا اور نہ کھانا برابر ہے ایسا ہی پانی کی پیاس ایک قطرہ سے نہیں بجھ سکتی۔یہی حال تقویٰ کا ہے۔کسی ایک شاخ پر عمل موجب ناز نہیں ہو سکتا۔بس تقومی وہی ہے جس کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: إِنَّ اللهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوا (النحل : ۱۳۹) خدا تعالیٰ کی معیت بتا دیتی ہے کہ یہ متقی ہے۔( بدر جلد ۶ نمبر ۱۷ مورخه ۱/۲۵ پریل ۱۹۰۷ء صفحه ۸)