تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 199
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹۹ سورة الاعراف فَزَوَّجَهُمَا حِكْمَةً مِّنْ عِنْدِهِ وَكَانَ اللہ اپنی حکمت کے تحت جوڑ دیا ہے اور اللہ تعالیٰ خوب جاننے عَلِيمًا حَكِيمًا۔ (حمامة البشرى ، روحانی خزائن جلدے صفحہ ۲۸۹) والا اور حکمت والا ہے۔ (ترجمہ از مرتب ) نزول سے مراد عزت و جلال کا اظہار ہوتا ہے۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۶ مورخہ ۷ ۱ رفروری ۱۹۰۱ء صفحہ ۷ ) خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں تقوی کو لباس کے نام سے موسوم کیا ہے چنانچہ لباس التقویٰ قرآن شریف کا لفظ ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ روحانی خوبصورتی اور روحانی زینت تقویٰ سے ہی پیدا ہوتی ہے اور تقویٰ یہ ہے کہ انسان خدا کی تمام امانتوں اور ایمانی عہد اور ایسا ہی مخلوق کی تمام امانتوں اور عہد کی حتی الوسع رعایت رکھے یعنی ان کے دقیق در دقیق پہلوؤں پر تا بمقدور کار بند ہو جائے ۔ (براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۲۱۰) تقویٰ ہی ایک ایسی چیز ہے جس کو شریعت کا خلاصہ کہہ سکتے ہیں اور اگر شریعت کو مختصر طور پر بیان کرنا چاہیں تو مغز شریعت تقویٰ ہی ہو سکتا ہے۔ تقویٰ کے مدارج اور مراتب بہت ہیں لیکن اگر طالب صادق ہو کر ابتدائی مراتب اور مراحل کو استقلال اور خلوص سے طے کرے تو وہ اس راستی اور طلب صدق کی وجہ سے اعلیٰ مدارج کو پالیتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ ( المائدة : ۲۸ ) ۔۔۔۔۔ ہماری جماعت کو لازم ہے کہ جہاں تک ممکن ہو ہرا ایک ان میں سے تقویٰ کی راہوں پر قدم مارے تا کہ قبولیت دعا کا سرور اور حظ حاصل کرے اور زیادتی ایمان کا حصہ لے۔ رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۱۳۳) تقوی خلاصہ ہے تمام صحف مقدسہ اور توریت و انجیل کی تعلیمات کا۔ قرآن کریم نے ایک ہی لفظ میں خدا تعالیٰ کی عظیم الشان مرضی اور پوری رضا کا اظہار کر دیا ہے۔ (احکام ۳ الحکم جلد ۳ نمبر ۲۲ مورخه ۲۳ جون ۱۸۹۹ صفحہ ۷ ) تقویٰ ایک تریاق ہے جو اسے استعمال کرتا ہے تمام زہروں سے نجات پاتا ہے مگر تقویٰ کامل ہونا چاہیے۔ تقویٰ کی کسی شاخ پر عمل پیرا ہونا ایسا ہے جیسے کسی کو بھوک لگی ہو اور وہ دانہ کھالے۔ ظاہر ہے کہ اس کا کھانا اور نہ کھانا برا بر ہے ایسا ہی پانی کی پیاس ایک قطرہ سے نہیں بجھ سکتی۔ یہی حال تقویٰ کا ہے۔ کسی ایک شاخ پر عمل موجب ناز نہیں ہو سکتا ۔ بس تقویٰ وہی ہے جس کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: إِنَّ اللهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقُوا (النحل : ۱۳۹) خدا تعالیٰ کی معیت بتا دیتی ہے کہ یہ متقی ہے۔ ( بدر جلد ۶ نمبر ۱۷ مورخه ۲۵ را پریل ۱۹۰۷ ء صفحه ۸)