تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 200
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الاعراف اگر بار بار اللہ کریم کا رحم چاہتے ہو تو تقویٰ اختیار کرو اور وہ سب باتیں جو خدا تعالیٰ کو ناراض کرنے والی ہیں چھوڑ دو۔جب تک خوف الہی کی حالت نہ ہو تب تک حقیقی تقویٰ حاصل نہیں ہوسکتا۔کوشش کرو کہ متقی بن جاؤ۔جب وہ لوگ ہلاک ہونے لگتے ہیں جو تقویٰ اختیار نہیں کرتے۔تب وہ لوگ بچالیے جاتے ہیں جو متقی ہوتے ہیں۔ایسے وقت ان کی نافرمانی انہیں ہلاک کر دیتی ہے اور ان کا تقویٰ انہیں بچا لیتا ہے۔انسان اپنی چالا کیوں ، شرارتوں اور غداریوں کے ساتھ اگر بچنا چاہے تو ہر گز بچ نہیں سکتا۔الحکم جلد نمبر ۳۴ مورخه ۲۴ ستمبر ۱۹۰۷ء صفحه ۳) یاد رکھو کہ دعا میں منظور نہ ہوں گی جب تک تم متقی نہ ہو اور تقویٰ اختیار کرو۔تقویٰ کی دو قسم ہیں۔ایک علم کے متعلق دوسرا عمل کے متعلق علم کے متعلق تو میں نے بیان کر دیا کہ علوم دین نہیں آتے اور حقائق معارف نہیں کھلتے جب تک متقی نہ ہو اور عمل کے متعلق یہ ہے کہ نماز ، روزہ اور دوسری عبادات اس وقت تک ناقص رہتی ہیں جب تک متقی نہ ہو۔الحکم جلد ۱۱ نمبر ۳ مورخه ۲۴ جنوری ۱۹۰۷ ء صفحه ۱۰) قف قُلْ اَمَرَ رَبِّي بِالْقِسْطِ وَأَقِيمُوا وُجُوهَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَ ادْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الذِينَ كَمَا بَدَأَكُمْ تَعُودُونَ۔اسلام کی ظاہری اور جسمانی صورت میں بھی ضعف آگیا ہے وہ قوت اور شوکت اسلامی سلطنت کی نہیں اور دینی طور پر بھی وہ بات جو مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّین میں سکھائی گئی تھی اس کا نمونہ نظر نہیں آتا ہے اندرونی طور پر اسلام کی حالت بہت ضعیف ہوگئی ہے اور بیرونی حملہ آور چاہتے ہیں کہ اسلام کو نابود کر دیں ان کے نزدیک مسلمان کتوں اور خنزیروں سے بدتر ہیں ان کی غرض اور ارادے یہی ہیں کہ وہ اسلام کو تباہ کر دیں اور مسلمانوں کو ہلاک کریں۔۔۔۔۔اب خدا کی کتاب کے بغیر اور اس کی تائید اور روشن نشانوں کے سوا ان کا مقابلہ ممکن نہیں اور اسی غرض کے لیے خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے اس سلسلہ کو قائم کیا ہے۔احکم جلد ۶ نمبر ۳۹ مورخه ۱۷۳۱اکتوبر ۱۹۰۲ صفحه ۲) اس وقت اسلام جس چیز کا نام ہے اس میں فرق آگیا ہے۔تمام اخلاق ذمیمہ بھر گئے ہیں اور وہ اخلاص جس کا ذکر مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّین میں ہوا ہے۔آسمان پر اُٹھ گیا ہے خدا کے ساتھ صدق وفاداری اخلاص محبت اور خدا پر توکل کالعدم ہو گئے ہیں۔اب خدا تعالیٰ نے ارادہ کیا ہے کہ پھر نئے سرے سے ان قوتوں کو