تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 196 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 196

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹۶ سورة الاعراف کہ وہ آسمان پر ہی مریں گے کیونکہ ان کا دوبارہ زمین پر آنا نصوص سے ثابت نہیں اور آسمان پر مرنا آیت فِيهَا تَمُوتُونَ کے منافی ہے۔ (تحفہ گولڑ ویه، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۹۸، ۹۹ حاشیه ) قرآن شریف کی آیت: فِيهَا تَحْيون سے موت ثابت ہوئی اور پھر قرآن شریف کی آیت: و لكم في الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ ( البقرة : ۳۷) سے موت ثابت ہوئی کیونکہ ان دونوں آیتوں سے ثابت ہوا کہ آسمان پر جسمانی زندگی اور قرار گاہ کسی انسان کا نہیں ہو سکتا۔ ایام الصلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۳۸۵) اعْلَمْ أَنَّ وَفَاةَ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ واضح رہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی وفات نصوص قطعیہ ثَابِتٌ بِالنُّصُوصِ الْقَطْعِيَّةِ الْيَقِينِيَّةِ یقینیہ سے ثابت ہے اور اگر تم اس بات کا ثبوت قرآن وَإِنْ تَطْلُبِ النُّبُوتَ مِنَ الْقُرْآنِ فَتَجِدُ سے طلب کرو تو تم اس میں یہ آیات پاؤ گے: یعیسی فِيهِ آيَةً يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ ، وَايَةً فَلَمَّا إِنِّي مُتَوَفِّيكَ اور آیت : فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی اور آیت : گانا تَوَفَّيْتَنِي، وَآيَةً كَانَا يَأْكُلْنَ الطَّعَامَ ، يَا كُنِ الطَّعَامَ اور آیت : مَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ مَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ اور آیت: فِيهَا تَحْيَوْنَ وَ الرُّسُلُ، وَآيَةَ فِيهَا تَحْيَوْنَ وَ فِيهَا فِيهَا تَمُوتُونَ ۔ اس آخری آیت کا مضمہ یت کا مضمون اس بات پر تَمُوتُونَ وَهُذِهِ الْآيَةُ الْأَخِيرَةُ تَدُلُّ صريحاً دلالت کرتا ہے کہ بنی آدم خاص طور پر زمین میں بِمَنْطُوقِهَا عَلَى أَنَّ بَنِي آدَمَ يَحْيَونَ في ہی زندگی گزاریں گے اور ( یہ کہ ) وہ آسمان پر اپنے الْأَرْضِ خَاصَّةً وَلَا يَصْعَدُونَ إِلَى السَّمَاءِ جسم عنصری کے ساتھ صعود نہیں کریں گے۔ یہ اس لیے بِجِسْمِهِمُ الْعُنْصُرِي لِأَنَّ لَفَظَ فِيهَا الَّذِي که لفظ فِيهَا جو تحيون پر مقدم ہے زمین پر ہی حیات هُوَ مُقَدَّمُ عَلَى لَفْظِ تَحْيَوْنَ يُوجِبُ کی تخصیص کرتا اور انسانی زندگی کو زمین سے مقید کر دیتا تَخْصِيصَ الْحَيَاةِ بِالْأَرْضِ وَيُقَيِّدُ بِهَا، ہے۔ اور اس آیت میں ان لوگوں کے خیال کی تردید وَفِيْهِ رَدُّ عَلَى الَّذِينَ يَقُولُونَ لِمَ لَا يَجُوزُ ہے جو کہتے ہیں کہ کیوں کسی انسان کا جسم عنصری کے أَنْ يُرْفَعَ أَحَدٌ بِجِسْمِهِ الْعُنْصُرِي إِلَی ساتھ آسمان پر جانا جائز نہیں اور ( یہ کہ ) وہ وہاں اس السَّمَاءِ وَيَحْى فِيهَا إِلى مُدَّةٍ أَرَادَهَا اللهُ؟ عرصہ تک زندہ رہے جب تک کہ منشاء الہی ہے۔ اور وَالْعَجَبُ مِنْهُمْ أَنَّهُمْ يَفْتَرُونَ عَلَيْنَا ان لوگوں پر تعجب ہے جو ہم پر افترا کرتے اور ہمارے آل عمران: ۵۶ - المائدة : ۱۱۸ المائدة : ۷۶ ۲ آل عمران : ۱۴۵