تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page xxiii
صفحه ۳۱۵ ۳۳۱۵ ۳۱۷ ۳۲۱ ۳۲۷ ۳۳۰ ۳۳۰ ۳۳۱ ۳۳۴ ۳۴۲ xxii رشمار ۱۸۱ ۱۸۲ مضمون حقائق اور معارف پر کبھی پوری اطلاع نہیں مل سکتی جب تک صادق کی صحبت اخلاص اور صدق سے اختیار نہ کی جاوے رسم و عادت سے نجات اور سچا اخلاص اور ایمان حاصل کرنے کی راہ کو نوا مَعَ الصُّدِقِينَ ۱۸۳ اعتراض که ۲۷ دسمبر کو ایک تاریخ پر جلسلہ کے لیے آنے میں بدعت ہے کا جواب صادق سے مراد وہ شخص ہے جس کی ہر بات صداقت اور راستی ہونے کے علاوہ اس کے ہر حرکات و سکنات و قول سب صدق سے بھرے ہوئے ہوں یہ کہنا کہ ہمارے لیے قرآن اور احادیث کافی ہیں اور صحبت صادقین کی ضرورت نہیں یہ خود مخالفت تعلیم قرآن ہے لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنْفُسِكُمْ - اَنْفُسُ کے لفظ میں ایک قراءت زبر کے ساتھ ہے آیت لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ الخ میں عزیز اور حریص کے الفاظ میں اشارہ رب العرش سے مراد آریہ کا اعتراض کہ یہ چھ دن کی کیوں تخصیص ہے، کا جواب فاسق ہیبت الہی کو مشاہدہ کر کے اپنی فاسقانہ چال چلن کو بدلا لیتا ہے اور بلا سے خلاصی کے بعد اپنی پہلی عادات کی طرف رجوع کر لیتا ہے الله ۱۸۵ ۱۸۶ ۱۸۷ ۱۸۸ ۱۸۹ ۱۹۰