تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxiii of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page xxiii

xxii نمبر شمار ۱۸۱ ۱۸۲ مضمون حقائق اور معارف پر کبھی پوری اطلاع نہیں مل سکتی جب تک صادق کی صحبت اخلاص اور صدق سے اختیار نہ کی جاوے رسم و عادت سے نجات اور سچا اخلاص اور ایمان حاصل کرنے کی راہ کو نوا مَعَ الصُّدِقِينَ ۱۸۳ اعتراض کہ ۲۷ ؍دسمبر کو ایک تاریخ پر جلسلہ کے لیے آنے میں بدعت ہے کا جواب ۱۸۴ صادق سے مرادوہ شخص ہے جس کی ہر بات صداقت اور راستی ہونے کے علاوہ اس کے ہر حرکات و سکنات وقول سب صدق سے بھرے ہوئے ہوں ۱۸۵ یہ کہنا کہ ہمارے لیے قرآن اور احادیث کافی ہیں اور صحبت صادقین کی ضرورت نہیں یہ خود مخالفت تعلیم قرآن ہے ۱۸۶ لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ - اَنفُس کے لفظ میں ایک قراءت زبر کے ساتھ ہے ۱۸۷ آیت لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ الخ میں عزیز اور صفحہ ۳۱۵ ۳۳۱۵ ۳۱۷ ۳۲۷ ۳۳۰ ۳۳۰ ٣٣١ ۳۳۴ ۳۴۲ حریص کے الفاظ میں اشارہ رب العرش سے مراد ۱۸۸ ۱۸۹ آریہ کا اعتراض کہ یہ چھ دن کی کیوں تخصیص ہے، کا جواب ۱۹۰ فاسق ہیبت الہی کو مشاہدہ کر کے اپنی فاسقانہ چال چلن کو بدلا لیتا ہے اور بلا سے خلاصی کے بعد اپنی پہلی عادات کی طرف رجوع کر لیتا ہے